دہشتگردی کے خلاف جنگ کسی قبیلے یا قوم کے خلاف نہیں،سرفراز بگٹی
آئندہ سال ترقیاتی منصوبوں میں ان علاقوں کو خصوصی ترجیح دی جائے گی جہاں ماضی میں خاطر خواہ کام نہیں ہوا۔
دہشتگردی کے خلاف جنگ کسی قبیلے یا قوم کے خلاف نہیں،سرفراز بگٹی
ڈیرہ بگٹی: وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ قبائلی تنازعات کو مقامی روایات کے مطابق حل کرنے کی کوشش کی جائے گی، تاہم دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ کو کسی قبیلے یا قوم کے ساتھ لڑائی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ آئندہ سال ترقیاتی منصوبوں میں ان علاقوں کو خصوصی ترجیح دی جائے گی جہاں ماضی میں خاطر خواہ کام نہیں ہوا۔ ان کے مطابق سابقہ ادوار میں اہم عہدوں پر رہنے والے بعض افراد نے اپنے ہی علاقوں اور لوگوں کی ضروریات کو نظرانداز کیا۔
سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ حکومت کی نظر میں صوبے کے تمام علاقے اور شہری یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میرٹ کی بنیاد پر کنٹریکٹ اساتذہ کی بھرتیوں کے بعد بلوچستان کے 99 فیصد اسکول فعال ہوچکے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ کنٹریکٹ پر کام کرنے والے اساتذہ اور دیگر ملازمین کے لیے پنشن اسکیم متعارف کرانے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔ ان کے مطابق صوبے میں صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بہتری کے لیے مختلف اصلاحات کی گئی ہیں۔
سرفراز بگٹی نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی اصلاحات کو پاکستان سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں پذیرائی مل رہی ہے۔