ریاض ایئرپورٹ پر پہلے حملے میں مفتی نصر اللہ البدر سمیت 2 بنگلہ دیشی شہید ہوئے

حوثی ملیشیا نے دونوں حملوں میں عمرے کی ادائیگی کے لیے جانے والے غیر ملکیوں کو نشانہ بنایا

October 12, 2026 · اہم خبریں
احرام میں ملبوس مفتی نصر اللہ البدر جن کا ریاض ایئرپورٹ پر حملے میں انتقال ہوا۔

احرام میں ملبوس مفتی نصر اللہ البدر جن کا ریاض ایئرپورٹ پر حملے میں انتقال ہوا۔

ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دو روز قبل حوثی ملیشیا کے میزائل حملے کے نتیجے میں جو عمرہ زائرین شہید ہوئے ان میں بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے مفتی نصر اللہ البدر شامل ہیں۔ بنگلہ دیش کا ایک اور شہری بھی شہید ہوا جب کہ اتوار اور پیر کی شب دوسرے میزائل حملے میں ایک پاکستانی کے شہید ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔

پہلا حملہ اس وقت ہوا جب مفتی نصر اللہ سمیت زائرین حالتِ احرام میں عمرہ کی ادائیگی کے لیے سفر کر رہے تھے۔ اس حملے کی ویڈیو سامنے آئی ہے جن میں حالت احرام میں عمرہ زائرین کو نشانہ بنتے دیکھا جا سکتا ہے۔

مفتی نصر اللہ البدر کی عمر 35 برس تھی اور وہ ضلع کوملا کے ننگل کوٹ اپازیلا کے گاؤں بدر پور کے رہنے والے مولانا محمد اللہ کے صاحبزادے تھے۔ وہ دارالحکومت ڈھاکا کے علاقے کامرانگیر چار میں واقع جامعہ عربیہ ربیع العلوم مدرسے میں ناظمِ تعلیمات کے فرائض انجام دے رہے تھے۔

مفتی نصر اللہ کے بڑے بھائی مولانا احسن اللہ بدر کے مطابق، وہ 10 اکتوبر بروز ہفتہ سعودی عرب روانہ ہوئے تھے اور اپنے ساتھ مدرسے کے اساتذہ اور عملے کے 45 افراد پر مشتمل قافلے کی قیادت کر رہے تھے۔ ریاض پہنچنے کے بعد انہوں نے جدہ جانے والی پرواز کے لیے بورڈنگ کا عمل مکمل کیا تھا۔ قافلے کے سالار ہونے کی ناطے وہ سب سے آگے موجود تھے کہ اچانک ایک میزائل ان سے 10 سے 15 گز کے فاصلے پر آ کر گرا، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے۔

واقعے کے فوراً بعد انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم اہل خانہ کا ان سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ مولانا احسن اللہ نے بتایا کہ وزارتِ مذہبی امور اور بنگلہ دیشی سفارت خانے نے ان کی تلاش شروع کی، اور پھر ٹریول ایجنسی کے مالک کی جانب سے موت کا سرٹیفکیت موصول ہونے کے بعد شہادت کی تصدیق ہوئی۔

مفتی نصر اللہ کے والد محمد اللہ نے بتایا کہ انہوں نے ہفتے کے روز ایئرپورٹ پہنچنے کے بعد اہل خانہ سے رابطہ کیا تھا، جس کے بعد اتوار کی دوپہر ان کی شہادت کی خبر ملی۔ سوگوار خاندان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی میت جلد از جلد بنگلہ دیش واپس لانے اور ان کے 3 بچوں کے لیے مناسب معاوضے کی فراہمی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

ننگل کوٹ کے اپازیلا نرباہی افسر ابو ریحان نے واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے سوگوار خاندان سے تعزیت کی ہے اور یقین دہانی کروائی ہے کہ انتظامیہ مفتی نصر اللہ کی میت وطن واپس لانے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔