امریکا، روس تیل معاہدے کے بعد عالمی منڈی میں قیمتیں گرگئیں
روس سے رسد میں اضافے کی توقعات، خام تیل کے داموں میں نمایاں کمی، نفاذ فوری ہوگا
عالمی منڈی میں روس اور امریکا کے درمیان تیل کے معاہدے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی جارہی ہے۔
امریکا اور روس کے درمیان اہم تیل کے معاہدے کے بعد بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 1 ڈالر 37 سینট، یعنی 1.31 فیصد کمی کے بعد 103 ڈالرز 35 سینٹ فی بیرل پر آگئی ہے۔ اس کے علاوہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹر میڈیٹ خام تیل کی قیمت بھی 1 ڈالر 30 سینٹ، یعنی 1.42 فیصد کمی کے بعد 90 ڈالرز 55 سینٹ فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔
دستاویزات اور خبر ایجنسی کی رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا ہے کہ روس امریکا اور عالمی منڈی کو فوری طور پر 3 لاکھ ٹن سے زائد ڈیزل فراہم کرے گا، جبکہ نومبر میں مزید 5 لاکھ ٹن اور نومبر کے بعد مزید 10 لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کیا جائے گا۔ امریکی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ انتہائی کامیاب ٹیلی فونک گفتگو ہوئی ہے اور ڈیزل کی ریکارڈ بلند قیمتیں جلد بہت نیچے آ جائیں گی۔
روسی صدارتی دفتر کریملن کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ گفتگو ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہی جس میں یوکرین بحران کے حل، امن مذاکرات کی بحالی اور ایران کی صورتِ حال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ کریملن نے تصدیق کی کہ صدر پیوٹن نے امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے وقت پر غور کرنے کی بات کی ہے جبکہ امریکی صدر نے ایران تنازع کے حل میں روس کے کردار کو سراہا۔ روسی قیادت کا کہنا ہے کہ امریکی مارکیٹ میں روسی تیل کی فراہمی سے عالمی معیشت پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔