خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی ناگزیر فیصلہ تھا،دہشت گردی کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے:نائب وزیراعظم

سخت اقدامات ناگزیر، وفاق کا دوٹوک مؤقف، افغان سرزمین کے استعمال پر شدید تحفظات۔

October 12, 2026 · قومی
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار خیبر پختونخوا کے امن و امان سے متعلق سیمینار سے خطاب کر رہے ہیں۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار خیبر پختونخوا کے امن و امان سے متعلق سیمینار سے خطاب کر رہے ہیں۔

 

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی ابتر صورت حال کے پیش نظر وفاقی حکومت کے پاس صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا تھا۔

اسلام آباد میں ایک اہم سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشتگردی اس وقت خطے اور دنیا کا سب سے بڑا چیلنج ہے، اور پاکستان نے اس عفریت کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کا نذرانہ پیش کرکے لازوال قربانیاں دی ہیں۔

اسحاق ڈار نے افغان طالبان حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگست 2025 میں کابل میں پاکستان، چین اور افغانستان کا سہ فریقی اجلاس منعقد ہوا تھا، مگر بدقسمتی سے افغان حکام نے دہشتگردی کے خاتمے سے متعلق اپنے وعدے پورے نہیں کیے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر افغان حکومت نے کالعدم ٹی ٹی پی سمیت دیگر دہشتگرد گروपों کے خلاف خود کارروائی نہ کی تو اسے اس کے سنگین نتائج خود بھگتنا ہوں گے۔

تقریب سے خطاب میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بھی صوبائی حکومت کی کارکردگی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت گزشتہ 13 برس کے دوران دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔ سی ٹی ڈی کو فعال نہ بنانے اور پولیس کو جدید اسلحہ فراہم نہ کرنے کی وجہ سے حالات قابو سے باہر ہوئے، جس پر مجبوراََ سخت قدم اٹھانا پڑا۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں اس وقت 20 ہزار سے زیادہ دہشتگرد موجود ہیں، جن میں ٹی ٹی پی کے 6 ہزار سے زائد ارکان بھی شامل ہیں۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے عزم ظاہر کیا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ہدایت پر دہشتگردوں کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر کامیاب آپریشنز جاری ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ بھارت پاکستان میں دہشتگردی کی پشت پناہی میں براہ راست ملوث ہے، جس کی واضح مثال کلبھوشن یادیو کا مکروہ کردار ہے۔ حکومت پاکستان ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتی رہے گی۔