خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج

آئینی درخواست دائر، سہیل آفریدی حفاظتی تحویل میں ہیں، گورنر راج ضرورت کے تحت جاری رہے گا۔

October 12, 2026 · اہم خبریں
پشاور ہائی کورٹ کا بیرونی منظر جہاں خیبر پختونخوا میں گورنر راج کیخلاف درخواست دائر کی گئی ہے۔

پشاور ہائی کورٹ کا بیرونی منظر جہاں خیبر پختونخوا میں گورنر راج کیخلاف درخواست دائر کی گئی ہے۔

پشاور ہائی کورٹ میں خیبر پختونخوا کے اندر ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کیخلاف باضابطہ طور پر ایک آئینی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ یہ درخواست سلمان ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی ہے جس میں صدر پاکستان، وزیر اعظم اور گورنر خیبر پختونخوا کو فریق بنایا گیا ہے۔

دائر کی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ سراسر غیر آئینی، غیر قانونی، بدنیتی پر مبنی اور بنیادی حقوق کے ساتھ ساتھ جمہوریت کے مینڈیٹ کے بھی منافی ہے۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ اس اقدام کو کالعدم اور غیر قانونی قرار دیا جائے اور مقدمے کے حتمی فیصلے تک گورنر راج کے نفاذ سے متعلق اعلامیہ کو معطل رکھا جائے۔

دوسری جانب وزیراعظم کے معاون خصوصی اختیار ولی نے ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران صوبائی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ معطل ہونے والے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اس وقت حفاظتی تحویل میں ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سہیل آفریدی نے خود کو قانون کے حوالے کیا ہے جب کہ صوبے میں گورنر راج ضرورت کے تحت نافذ کیا گیا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو یہ انتخابات تک بھی جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے کا انتظامی نظام بگڑ چکا تھا اور بعض اضلاع کو دہشت گردوں کے حوالے کر دیا گیا تھا، لہٰذا اب بلا امتیاز احتساب کا عمل یقینی بنایا جائے گا۔