کراچی میں عالمی تعلیمی کانفرنس اختتام پذیر،34 ممالک کی جامعات کے سربراہان شریک

اعلامیے میں خوارج اورتکفیری گروہوں کو امت مسلمہ کی وحدت کےلیے سنگین خطرہ قرار دےدیا گیا

October 12, 2026 · قومی

کراچی میں دو روزہ عالمی تعلیمی کانفرنس میں 34 ممالک کی جامعات کے سربراہان، علمائے کرام اور ماہرین تعلیم کی شرکت، مسلم دنیا میں تعلیمی و تحقیقی تعاون اور جدید علوم کے فروغ پر زور۔ فائل فوٹو

کراچی: رابطہ عالم اسلامی کے تحت لیگ آف اسلامک یونیورسٹیز مکہ مکرمہ کے اشتراک سے جامعۃ الرشید اور جامعہ الغزالی کراچی میں منعقدہ دو روزہ عالمی تعلیمی کانفرنس اختتام پذیر ہوگئی۔ کانفرنس میں دنیا کے 34 ممالک کی جامعات کے چانسلرز، وائس چانسلرز اور ماہرین تعلیم نے شرکت کی۔

اختتامی تقریب میں گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی، وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف، وفاقی وزیر احسن اقبال اور اسلامی دنیا کی علمی قیادت شریک ہوئی۔

کانفرنس کے اختتامی اعلامیے میں کہا گیا کہ خوارج اور دہشت گردی کے خلاف پورا عالم اسلام متحد ہے، جبکہ حرمین شریفین کا تحفظ اور امن پوری امت کی ریڈ لائن ہے۔ اعلامیے میں خوارج اور تکفیری گروہوں کو امت مسلمہ کی وحدت کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا۔

کانفرنس میں سعودی عرب، مصر، تیونس، ترکیہ، امریکا، لیبیا اور ملائیشیا سمیت 34 ممالک کے مندوبین شریک ہوئے۔ جامعہ الازہر مصر، جامعہ زیتونہ اور انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹیز کے سربراہان نے بھی شرکت کی۔

کانفرنس کے دوسرے روز جامعہ الازہر مصر اور جامعہ الغزالی کراچی کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے، جس کے تحت جامعہ الغزالی کے طلبہ کو جامعہ الازہر میں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع میسر آسکیں گے۔

اس موقع پر رئیس جامعہ الغزالی مفتی عبدالرحیم اور رئیس جامعہ الازہر شیخ محمود الصدیق کو پی ایچ ڈی کی اعزازی اسناد بھی تفویض کی گئیں۔ جامعہ الغزالی میں فیملی بزنس، رابطہ الجامعات اسلامیہ، سیرت چیئر اور الاعجاز العلمی (قرآن و سائنس) کے چار دفاتر کا افتتاح بھی کیا گیا۔

گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی نے اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امت مسلمہ کا اصل سرمایہ علما اور اساتذہ ہیں۔ اب صرف قرآن پڑھنے اور چومنے کا نہیں بلکہ اسے سمجھنے اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنے کا وقت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ذاتی مفادات اجتماعی مفاد پر غالب آتے ہیں تو امت کمزور ہوجاتی ہے۔

انہوں نے غزہ میں معصوم بچوں اور خواتین کے قتل عام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مسلم دنیا کو امن کے قیام اور مظلوم فلسطینیوں کی حمایت کے لیے مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے مسلم ممالک کی جامعات پر زور دیا کہ وہ جدید علوم، مصنوعی ذہانت، ٹیکنالوجی اور تحقیق کے شعبوں میں تعاون بڑھائیں۔

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا کہ مسلم امہ کو درپیش چیلنجز مزید پیچیدہ ہوگئے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے مسلم ممالک کے درمیان سیاسی اور اقتصادی تعاون ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ بغداد، دمشق، بخارا اور سمرقند سمیت مختلف خطوں کے مسلم علما نے طب، جغرافیہ، ریاضی اور فلکیات سمیت متعدد شعبوں میں نمایاں تحقیقی خدمات انجام دیں۔ آج مسلم دنیا کی جامعات مشترکہ تحقیقی اشاعتوں اور تحقیق پر کام کررہی ہیں، تاہم ان کے درمیان تعاون مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق پاکستان ڈیجیٹل تبدیلی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں آگے بڑھ رہا ہے، جبکہ جامعات کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کو انتہا پسندی سے دور رکھیں اور اخلاقی اقدار کی جانب رہنمائی فراہم کریں۔

رئیس جامعہ الغزالی مفتی عبدالرحیم نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ کانفرنس 1974 کے تاریخی اسلامی سربراہی اجلاس کے بعد ایک بڑی تعلیمی پیش رفت ہے۔ ان کے مطابق عالم اسلام کو درپیش مسائل اور بدامنی کی بنیادی وجوہ میں نظام تعلیم کا بگاڑ بھی شامل ہے۔

کانفرنس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ تعلیم تمام چیلنجز سے نمٹنے کا بنیادی ذریعہ ہے اور مختلف جامعات پاکستان کو اپنا نصاب فراہم کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔

صدر جامعہ الازہر شیخ محمود الصدیق نے مسلم ممالک کی جامعات کے درمیان علمی و تحقیقی تعاون کو وقت کی ناگزیر ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالم اسلام کا عروج صرف عقلی علوم نہیں بلکہ تمام جدید علوم میں مہارت حاصل کرنے سے ممکن ہے۔

ڈاکٹر سامی الشریف نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کے چیلنجز کا مقابلہ مشترکہ علمی اتحاد کے ذریعے ہی کیا جاسکتا ہے۔

کانفرنس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ مسلم دنیا کی جامعات کے درمیان طلبہ، اساتذہ اور تحقیقی وفود کے تبادلوں کو فروغ دیا جائے تاکہ علمی تعاون کو عملی شراکت داری میں تبدیل کرکے امت مسلمہ کو درپیش مسائل کا مؤثر حل تلاش کیا جاسکے۔