دہشت گردی کے خلاف دوہری پالیسیاں نہیں چل سکتیں،وفاقی وزرا

جدید ریاستیں آئینی نظام کے تحت چلتی ہیں اور آئین ہی ریاستی امور کی انجام دہی کے بنیادی اصول طے کرتا ہے۔

October 13, 2026 · اہم خبریں
دہشت گردی کے خلاف دوہری پالیسیاں نہیں چل سکتیں،وفاقی وزرا

دہشت گردی کے خلاف دوہری پالیسیاں نہیں چل سکتیں،وفاقی وزرا

اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ایک ہی ملک میں دو مختلف پالیسیاں نہیں اپنائی جاسکتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید ریاستیں آئینی نظام کے تحت چلتی ہیں اور آئین ہی ریاستی امور کی انجام دہی کے بنیادی اصول طے کرتا ہے۔

اسلام آباد میں غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو خیبر پختونخوا کی صورت حال پر بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزرا نے کہا کہ پاکستان کئی دہائیوں سے دہشت گردی کا سامنا کررہا ہے۔ یہ مسئلہ حالیہ برسوں تک محدود نہیں، بلکہ اس کی جڑیں افغانستان میں 1970 کی دہائی کے اواخر میں شروع ہونے والی جنگ اور سوویت یونین کی مداخلت کے دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پاکستانی قوم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم حالیہ عرصے میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

وفاقی وزیر قانون کے مطابق خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں 200 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں اور اس خطرے سے نمٹنے کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔

وزرا کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے مسئلے کو سمجھنے کے لیے اس کے تاریخی پس منظر اور خطے میں ہونے والی تبدیلیوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ریاستی امور آئین کے مطابق چلائے جانے چاہییں۔