فرانس میں سیکڑوں سپر مارکیٹس پر سائبر حملہ، فریزر کا درجہ حرارت 50 ڈگری تک پہنچ گیا
بڑی تجارتی کمپنیوں انٹرمارشے، کواپریٹو یو، ای لی کلرک، کیریفور اور مونوپری نے اپنے اسٹورز میں ریفریجریشن نظام متاثر ہونے کی تصدیق
فرانس میں سیکڑوں سپر مارکیٹس پر سائبر حملہ، فریزر کا درجہ حرارت 50 ڈگری تک پہنچ گیا( فوٹو سوشل میڈیا ( ایکس)
فرانس میں سائبر حملے کے نتیجے میں سیکڑوں سپر مارکیٹس کے ریفریجریشن نظام متاثر ہوگئے، جس کے باعث تازہ اور منجمد خوراک خراب ہوگئی۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق اس واقعے سے کروڑوں یورو کا نقصان ہوسکتا ہے، جبکہ بعض اسٹورز میں آگ لگنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
خبر رساں اداروں کے مطابق فرانس کی بڑی تجارتی کمپنیوں انٹرمارشے، کواپریٹو یو، ای لی کلرک، کیریفور اور مونوپری نے اپنے اسٹورز میں ریفریجریشن نظام متاثر ہونے کی تصدیق کی ہے۔ مختلف کمپنیوں کے سیکڑوں مراکز اس واقعے سے متاثر ہوئے، تاہم ہر کمپنی میں نقصان کی نوعیت اور مقدار مختلف بتائی جا رہی ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہیکرز نے انٹرنیٹ سے منسلک ریفریجریشن نظاموں تک رسائی حاصل کرکے ان کے خودکار برف پگھلانے کے عمل کو فعال کردیا۔ اس کے نتیجے میں بعض فریج اور فریزر کا درجہ حرارت غیر معمولی طور پر بڑھ گیا، جس سے بڑی مقدار میں تازہ اور منجمد اشیائے خورونوش خراب ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔
انٹرمارشے کے سربراہ تھیری کوتیلارڈ کے مطابق ایک ہی دن میں ہونے والے نقصان کی مالیت کروڑوں یورو تک پہنچ سکتی ہے۔ متاثرہ اسٹورز کو خراب ہونے والی خوراک تلف کرنا پڑے گی۔
کواپریٹو یو کے سربراہ ڈومینک شیلشر نے بھی ریفریجریشن نظام متاثر ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے عوام کو خوراک فراہم کرنے والے اہم نظام پر سنگین حملہ قرار دیا۔
فرانس کے وزیراعظم سیباستیاں لیکورنو نے قومی سائبر سکیورٹی ادارے کو واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ حکام یہ بھی جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا اس حملے کے اثرات فرانس سے باہر دیگر یورپی ممالک تک بھی پہنچے ہیں۔
ابتدائی تحقیقات میں ڈنمارک کی کمپنی ڈانفوس کے تیار کردہ سافٹ ویئر میں ممکنہ حفاظتی کمزوری کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ کمپنی کے مطابق فرانس میں اس کے بعض ریفریجریشن مینجمنٹ نظام متاثر ہوئے ہیں اور متعلقہ آلات میں پرانا سافٹ ویئر استعمال ہونے کی اطلاعات ہیں۔
سائبر سکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ انٹرنیٹ سے منسلک صنعتی آلات میں حفاظتی خامیاں اہم نظاموں کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔ اگر اسی نوعیت کے حملے بجلی کی فراہمی یا اسپتالوں کے نظاموں پر کیے گئے تو ان کے اثرات کہیں زیادہ سنگین ہوسکتے ہیں۔
تاحال حملے کے ذمہ دار افراد یا گروہ کی شناخت نہیں ہوسکی۔ فرانسیسی حکام تحقیقات کے ساتھ متاثرہ نظاموں کی بحالی اور مالی نقصان کا درست تخمینہ لگانے میں مصروف ہیں۔