وزیر داخلہ سے یورپین کمشنر کی ملاقات،غیر قانونی ہجرت کیخلاف پاکستان کے اقدامات کی تعریف
ملاقات کے دوران دونوں جانب سے وفود کی سطح پر بھی مذاکرات ہوئے، جن میں امیگریشن، ادارہ جاتی تعاون اور سرحدی انتظامات کو مزید مؤثر بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر داخلہ سے یورپین کمشنر کی ملاقات،غیر قانونی ہجرت کیخلاف پاکستان کے اقدامات کی تعریف
اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور یورپی یونین کے کمشنر برائے داخلی امور و ہجرت میگنس برنر کے درمیان ملاقات میں غیر قانونی ہجرت کی روک تھام، سرحدی تحفظ اور قانونی ہجرت کے فروغ کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
ملاقات کے دوران دونوں جانب سے وفود کی سطح پر بھی مذاکرات ہوئے، جن میں امیگریشن، ادارہ جاتی تعاون اور سرحدی انتظامات کو مزید مؤثر بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یورپی یونین کے کمشنر میگنس برنر نے یورپ کی جانب غیر قانونی ہجرت میں 64 فیصد کمی کو پاکستان کے اقدامات کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ محدود وسائل کے باوجود وفاقی تحقیقاتی ادارے نے پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ غیر قانونی ہجرت میں کمی سے قانونی طریقوں کے ذریعے یورپ جانے کے مواقع بڑھیں گے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان نے غیر قانونی ہجرت کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنا رکھی ہے۔ ان کے مطابق 64 فیصد کمی کے بعد اب ہدف غیر قانونی ہجرت کا مکمل خاتمہ ہے۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ غیر قانونی ہجرت ایک سنگین عالمی مسئلہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے پاکستان اور یورپی یونین کو مشترکہ کوششیں جاری رکھنا ہوں گی۔
ملاقات میں قانونی ہجرت کے فروغ اور ہنرمند پاکستانی افرادی قوت کے لیے یورپ میں مواقع بڑھانے پر بھی گفتگو ہوئی۔ دونوں فریقین نے سرحدی تحفظ اور امیگریشن کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
اس موقع پر غیر قانونی ہجرت کی روک تھام کے لیے یورپی یونین کے ایسٹرن کوریڈور اقدام پر مشترکہ طور پر کام کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ پاکستان کوسٹ گارڈز کی استعداد بڑھانے کے لیے تعاون میں اضافے پر تبادلہ خیال ہوا، جبکہ یورپی کمشنر نے اس سلسلے میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
ملاقات میں سیکرٹری داخلہ، محکمہ داخلہ کے دیگر اعلیٰ حکام، ڈی جی ایف آئی اے، آئی جی فیڈرل کانسٹیبلری، ڈی جی این سی سی آئی اے، ڈی جی پاسپورٹ، چیف کمشنر اسلام آباد اور متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔