سردار عارف قتل کیس،ملزمان کی ضمانت قبل از گرفتاری میں 17 اکتوبر تک توسیع
مقتول کے والد کا پولیس تشدد اور فائرنگ کے الزامات،انصاف نہ ملنے پرسڑکوں پر آنےکا اعلان
ایبٹ آباد: سردار عارف قتل کیس میں انصاف کی فراہمی کے لیے مقتول کے والد سردار عبدالرشید اور ایوب ٹیچنگ انسٹیٹیوشن کے پیرا میڈیکس عہدیداران ایبٹ آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو
ایبٹ آباد ایڈیشنل اینڈ سیشن جج کی عدالت نے ایوب ٹیچنگ انسٹیٹیوشن کے ملازم سپروائزر سردار عارف کے قتل کے مقدمے میں ملوث ملزمان کی ضمانت قبل از گرفتاری میں 17 اکتوبر تک توسیع کر دی۔ منگل کے روز ہونے والی سماعت کے دوران ملزم سب انسپکٹر احسن خان اور دیگر ملوث اہلکار عدالت میں پیش ہوئے۔ اس موقع پر مقتول کے والد سردار عبدالرشید، ایوب ٹیچنگ انسٹیٹیوشن کے پیرا میڈیکس عہدیداران، ڈاکٹرز اور عمائدین علاقہ بھی موجود تھے۔ ایڈیشنل سیشن جج VI نے پولیس سے مقدمے کا ریکارڈ بھی طلب کیا، جبکہ وکلاء بھی عدالت میں پیش ہوئے۔
بعد ازاں ایبٹ آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مقتول کے والد سردار عبدالرشید نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے ان کے بیٹے سردار عارف پر تشدد کرکے اس کی دونوں ٹانگیں توڑیں، اندھا دھند فائرنگ کرکے اسے بے دردی سے قتل کیا اور چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کیا۔ انہوں نے کہا کہ لاش کو گھسیٹ کر بے حرمتی کی گئی۔
سردار عبدالرشید کا کہنا تھا کہ مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور انہیں پورے انصاف کی امید ہے۔ انہیں پولیس افسران سے بھی توقع ہے کہ وہ ان کے ساتھ ہونے والے ظلم کا ازالہ کریں گے۔ انہوں نے اس ظلم کے خلاف ایوب ٹیچنگ انسٹیٹیوشن کے ملازمین، ڈاکٹرز، پیرا میڈیکس اور میڈیا کے کردار کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔
اس موقع پر ایوب ٹیچنگ انسٹیٹیوشن کے عہدیداران، پیرا میڈیکل ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد اشتیاق، صدر شفیق احمد نیئر، پیرا میڈیکس درجہ چہارم کے صدر ملک لیاقت اعوان اور نرسنگ ایسوسی ایشن کے سید آفتاب شاہ نے کہا کہ سردار عارف کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ انہوں نے اپیل کی کہ بے حسی ختم کرکے مظلوم کا ساتھ دیا جائے، معاملے کو غلط رنگ نہ دیا جائے اور تعصب نہ پھیلایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی جدوجہد صرف انصاف کے حصول کے لیے ہے۔
عہدیداران نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس افسران کو باور کرایا کہ اگر انصاف ہوتا نظر نہ آیا تو وہ مجبوراً سڑکوں پر نکلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد اور ظالم کا کوئی ادارہ یا مذہب نہیں ہوتا، اس لیے مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ 5 اکتوبر کو تھانہ میرپور کی حدود میں پھل گلاب روڈ پر واقع ایک رہائشی گھر میں سردار عارف کو ایس ایچ او تھانہ نے اہلکاروں کے ہمراہ فائرنگ کرکے قتل کیا تھا۔ واقعے کے خلاف بھرپور احتجاج کے بعد تھانے میں دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، جس میں سب انسپکٹر احسن خان اور دیگر اہلکاروں کو نامزد کیا گیا تھا۔
مقدمے کی سماعت منگل کے روز ایڈیشنل اینڈ سیشن جج کی عدالت میں ہوئی، جبکہ آئندہ پیشی 17 اکتوبر کو ہوگی۔