چین نے لداخ پر بھارتی دعویٰ اور یکطرفہ اقدامات کو مسترد کردیا
بیجنگ کا سخت مؤقف، بھارتی اقدام غیر قانونی ہے، ترجمان دفتر خارجہ
چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہی ہیں۔
چین نے بھارت کی جانب سے لداخ کے نام نہاد یونین ٹریٹری کے قیام اور متنازع سرحدی علاقوں کے لیے نام تبدیل کرنے کے فیصلوں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ بیجنگ نے کبھی بھی بھارت کے اس یکطرفہ اور غیر قانونی اقدام کو تسلیم نہیں کیا۔
چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی وزارت داخلہ کی طرف سے 28 مقامات کے نام تبدیل کرنے اور انہیں سرکاری نقشوں میں شامل کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، جس میں متنازع سرحدی علاقے اور وہ علاقے بھی شامل ہیں جو چین کے زیر اثر ہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ بھارت کا یہ اقدام مکمل طور پر غیر قانونی اور غیر موثر ہے۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح کے حربے اس حقیقت کو ہرگز تبدیل نہیں کر سکتے کہ چین بھارت سرحد کے مغربی سیکٹر سے وابستہ متعلقہ علاقے ہمیشہ سے چین کا حصہ رہے ہیں۔ چین نے خطے میں بھارت کے ان متنازع اقدامات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دوطرفہ امور اور سرحدی خودمختاری کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔