خیبرپختونخوا اسمبلی کے سابق اسپیکر بابر سلیم سواتی کی بازیابی کے لیے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر
کزن وقار احمد کی جانب سے آئینی درخواست،مبینہ اغوا کی تحقیقات اورفوری عدالتی مداخلت کی استدعا
خیبرپختونخوا اسمبلی کے سابق اسپیکر بابر سلیم سواتی کی مبینہ اغوا کے بعد بازیابی کے لیے ان کے کزن نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی۔
پشاور: خیبرپختونخوا اسمبلی کے سابق اسپیکر بابر سلیم سواتی کے مبینہ اغوا اور فوری بازیابی کے لیے پشاور ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کردی گئی، جس میں معاملے کی فوری سماعت کی استدعا کی گئی ہے۔
سابق اسپیکر بابر سلیم سواتی کے کزن وقار احمد نے سپریم کورٹ کے وکیل بشیر خان وزیر ایڈووکیٹ کے توسط سے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت درخواست دائر کی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ صوبائی اسمبلی کے منتخب اسپیکر کو سی سی پی او پشاور کی موجودگی میں مسلح اور نقاب پوش افراد نے اغوا کیا۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ وفاقی و صوبائی حکام اور پولیس کے متعلقہ افسران کو اسپیکر کی بازیابی، ان کی سلامتی یقینی بنانے اور واقعے کی تحقیقات کے لیے فوری احکامات جاری کیے جائیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ منتخب اسپیکر کا مبینہ اغوا نہ صرف ان کی ذاتی آزادی اور سلامتی کا معاملہ ہے بلکہ اس سے صوبے کے آئینی، پارلیمانی اور جمہوری نظام کے تحفظ سے متعلق بھی سنگین سوالات جنم لیتے ہیں۔ درخواست گزار کے مطابق اسپیکر کی جان، آزادی اور جسمانی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں اور مزید تاخیر خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔
درخواست میں آئین کے آرٹیکلز 4، 9، 10 اور 14 کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اپنایا گیا ہے کہ کسی شہری کو قانونی تحفظ، آزادی، سلامتی اور عزت کے بنیادی حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا، جبکہ مبینہ غیر قانونی حراست کی صورت میں فوری عدالتی مداخلت ضروری ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ اسپیکر بابر سلیم سواتی کو فوری بازیاب کراکے عدالت کے روبرو پیش کرنے کا حکم دیا جائے اور متعلقہ حکام سے وضاحت طلب کی جائے کہ وہ اس وقت کہاں ہیں، کس کی تحویل میں ہیں اور اگر ان کی آزادی سلب کی گئی ہے تو کس قانونی اختیار کے تحت ایسا کیا گیا ہے۔
درخواست میں سی سی پی او پشاور کو ہدایت دینے کی بھی استدعا کی گئی ہے کہ وہ مبینہ اغوا کے واقعے، موقع پر موجود افراد اور اس وقت کیے گئے سکیورٹی انتظامات کی مکمل تفصیلات عدالت میں پیش کریں۔ اس کے علاوہ واقعے کی آزادانہ، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات، مبینہ طور پر ملوث افراد کی نشاندہی اور ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی درخواست بھی کی گئی ہے۔
درخواست گزار نے مزید استدعا کی ہے کہ واقعے سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج، سکیورٹی ریکارڈ، داخلی و خارجی راستوں کی تفصیلات اور دیگر متعلقہ شواہد فوری طور پر محفوظ کیے جائیں، جبکہ پولیس حکام اسپیکر کی بازیابی کے لیے کیے گئے اقدامات پر مشتمل تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بازیابی تک متعلقہ حکام کو مسلسل پیش رفت رپورٹس پیش کرنے کا پابند بنایا جائے تاکہ معاملے کی مؤثر نگرانی ممکن ہوسکے۔ اگر اسپیکر کی غیر قانونی حراست ثابت ہو تو ان کی فوری رہائی اور آئینی حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست گزار نے معاملے کو انتہائی حساس اور فوری نوعیت کا قرار دیتے ہوئے آئینی درخواست بلا تاخیر سماعت کے لیے مقرر کرنے اور اسپیکر کی جان، آزادی، عزت اور جسمانی تحفظ کے لیے فوری عدالتی احکامات جاری کرنے کی اپیل کی ہے۔