لائبہ سے 93 لاکھ ہتھیانے والے نعمان نے مانسہرہ میں 85 لاکھ لوٹے
12 لڑکے لڑکیوں کو نوکری کا جھانسہ دیا- میڈیکل بھی کرایا تھا- کیس دب نہ جاتا تو لائبہ کی جان بچ سکتی تھی
ملزم نعمان کو عدالت میں پیشی کے بعد واپس لے جایا جا رہا ہے
اسلام آباد میں گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ اعجاز کی مبینہ خودکشی کے کیس میں انتہائی سنسنی خیز اور اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ اس گھنائونے فراڈ میں ملوث مرکزی ملزم نعمان نے دورانِ تفتیش دھوکہ دہی کا اعتراف کر لیا ہے جبکہ پولیس ذرائع نے اس مکروہ دھندے سے متعلق کئی پر تہوں سے پردہ اٹھایا ہے۔
پولیس ذرائع اور ایف آئی آر کے متن کے مطابق، مقتولہ لائبہ اعجاز کی ملزم نعمان سے ملاقات اسلام آباد کے بلیو ایریا میں ہوئی تھی۔ ملزم نے خود کو ایک اعلیٰ سرکاری افسر ظاہر کرتے ہوئے ہونہار طالبہ کی بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کی خواہش کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور اسے اسٹڈی ویزے پر امریکا بھجوانے کا جھانسہ دیا۔ ملزم نے ویزا اور اسکالرشپ دلوانے کے نام پر لائبہ سے مجموعی طور پر 93 لاکھ روپے بٹورے۔
تفتیشی ٹیموں نے ملزم کو کی جانے والی ادائیگیوں کا بینک ریکارڈ بھی حاصل کر لیا ہے۔ والد کے بیان کے مطابق ملزم کو 21 لاکھ روپے جی 10 کے علاقے میں نقد ادا کیے گئے جبکہ 29 لاکھ روپے لائبہ کے اکاؤنٹ سے ملزم کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کیے گئے۔ ملزم نے بینک اسٹیٹمنٹ کے لیے اکاؤنٹ میں 20 ہزار ڈالر بھجوانے کی جعلی رسیدیں بھی فراہم کی تھیں۔ رقم وصول کرنے کے باوجود جب کام نہیں ہوا اور والدین نے کاغذی کارروائی چیک کرائی تو تمام دستاویزات جعلی نکلیں۔ ملزم نے فراڈ میں عائزہ نامی لڑکی کو بھی شامل کر رکھا تھا جو لائبہ سے رابطہ کرکے مزید رقوم کا مطالبہ کرتی تھی۔ پولیس کے مطابق ملزم نے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے جعلی دستاویزات تیار کیں اور خود لڑکی بن کر یا ساتھی کے ذریعے ایس ایم ایس کے ذریعے طالبہ کو دھوکہ دیتا رہا۔ پولیس نے ملزم کا موبائل فون فارنزک لیبارٹری بھجوا دیا ہے۔
دوسری جانب تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ گرفتار ملزم نعمان ایک عادی نوسرباز ہے۔ ملزم کے خلاف تھانہ مانسہرہ میں بھی مقدمہ درج ہے جہاں اس نے ایک ہی خاندان کے 12 نوجوانوں کو سرکاری نوکری دلوانے کے عوض 85 لاکھ روپے ہتھیائے تھے۔ ملزم نے متاثرہ خاندان کے لڑکوں اور لڑکیوں کے سی ایم ایچ سے میڈیکل بھی کروائے اور جعلی اپائنٹمنٹ لیٹرز جاری کیے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مانسہرہ پولیس مبینہ سستی کا شکار نہ ہوتی تو شاید لائبہ کی جان بچائی جا سکتی تھی۔ لائبہ کی موت سے 1 ماہ قبل مانسہرہ پولیس ملزم کی گرفتاری کے لیے اسلام آباد آئی تھی اور اسلام آباد پولیس کے ساتھ مل کر ملزم کے گھر بھی چھاپہ مارا گیا تھا، تاہم پولیس کے پہنچنے سے قبل ہی ملزم فرار ہو چکا تھا۔