مذاکرات ایک ڈھونگ تھا حکومت نے ایمرجنسی کا پہلے سے طے کیا ہوا تھا،اپوزیشن لیڈر سینیٹ

راجا ناصر عباس کا مؤقف،سیاسی معاملات پر اتفاق رائے ہوگیا تھا،اختلاف سیکیورٹی امور پر پیدا ہوا۔

October 13, 2026 · قومی

سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس ایوان میں اظہار خیال کر رہے ہیں، انہوں نے مذاکرات کو ڈھونگ قرار دیتے ہوئے حکومت سے گورنر راج ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

اسلام آباد: سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس نے کہا ہے کہ مذاکرات ایک ڈھونگ تھے، حکومت نے گورنر راج اور ایمرجنسی کا فیصلہ پہلے ہی کرلیا تھا۔ ہم عمران خان سے ملاقات کے مطالبے سے بھی پیچھے ہٹ گئے، لیکن حکومت کسی بات پر پیچھے نہیں ہٹی۔

سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے راجا ناصر عباس نے کہا کہ آئین کی روح کے خلاف ترامیم غلط ہیں، اس دستاویز کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے جو وفاق کی وحدت کی بنیاد ہے۔ اقتدار اللہ کی جانب سے امانت ہے اور اللہ نے عوام کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کا حق دیا ہے۔ آئین پاکستان کے مطابق ہم اللہ اور عوام کے سامنے جوابدہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فروری 2024 سے جو کچھ ہو رہا ہے، عوام اس سے خوش نہیں۔ 12 اکتوبر کو ایک طالع آزما نے دوتہائی اکثریت کو اٹھا کر باہر پھینک دیا، منتخب وزیراعظم کو ایک آمر نے جیل میں ڈالا اور پھانسی دی، لیکن کوئی باہر نہیں نکلا۔ ایسے اقدامات نہ کیے جائیں جن سے عوام لاتعلق ہو جائیں۔

راجا ناصر عباس نے کہا کہ عوام کے حق رائے دہی پر ڈاکہ ڈال کر انہیں مایوس نہ کیا جائے۔ کیا خیبرپختونخوا میں حالات اتنے خراب ہوگئے تھے کہ منتخب حکومت کو ہٹایا جائے؟ مذاکرات میں وہ خود بھی موجود تھے اور سیاسی معاملات پر اتفاق رائے ہوچکا تھا، تاہم سیکیورٹی کے مسائل پر بات کے دوران معاملہ خراب ہوا اور سیاسی مسائل کو امن و امان کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی، حالانکہ وہ ایک سیاسی جماعت کے سربراہ اور قیدی ہیں۔ وہ عمران خان سے دنیا کے موجودہ حالات میں رہنمائی حاصل کرنے کے لیے ملنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے اس رات یہ بھی مان لیا تھا کہ ملاقات نہ کرائی جائے اور آگے بڑھا جائے، لیکن انہیں اندازہ تھا کہ فیصلہ پہلے ہی ہوچکا تھا۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ گورنر کو یہ کہنا زیب نہیں دیتا کہ بلوں سے باہر نکلو، اس طرح اسلحہ اٹھانے والے بڑھ جائیں گے۔ انہوں نے سوال کیا کہ خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کو اس کارروائی سے کیا پیغام دیا گیا ہے؟ ان کے بقول اس اقدام سے یہ تاثر دیا گیا کہ سیاسی جدوجہد اور عدلیہ کی کوئی اہمیت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پہلے دن سے دہشت گردوں کی آمد کا ذکر کر رہی تھی، لیکن اس عمل سے دہشت گردی اور بدامنی بڑھے گی، جس کے بعد خدانخواستہ منظور پشتین اور ٹی ٹی پی کو درست قرار دینے کی باتیں ہوں گی۔

راجا ناصر عباس نے کہا کہ پرویز مشرف آمر تھا لیکن اختلاف برداشت کرلیتا تھا، جبکہ موجودہ حکومت جمہوری ہونے کے باوجود اختلاف برداشت نہیں کرسکتی۔ ان کے مطابق تحریک انصاف کے قومی اور صوبائی اسمبلی کے ارکان کو بھی اٹھایا جا رہا ہے۔

انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ مذاکرات محض ڈھونگ تھے اور حکومت نے سب کچھ پہلے سے طے کر رکھا تھا۔ ان کے مطابق اتفاق ہوا تھا کہ سہیل آفریدی اور وہ ساتھ ہوں گے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ غلطی درست کی جاسکتی ہے، اس لیے گورنر راج ختم کیا جائے، کیونکہ اس طریقے سے امن قائم نہیں ہوسکتا اور اس کا نقصان پاکستان کو ہوگا۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ وہ محسن نقوی کو بتانا چاہتے ہیں کہ آئین کی کس طرح خلاف ورزی کی گئی ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے وزیراعلیٰ، اسپیکر اور دیگر وزرا کو گرفتار کرلیا ہے، جو آئین شکنی ہے۔