دہشت گردی کی آڑ میں صوبے پر قبضے کی اجازت کون سا قانون دیتا ہے؟ بیرسٹر علی ظفر
پی ٹی آئی سینیٹرکا گورنر راج اور ایمرجنسی سےمتعلق آئینی شقوں کاحوالہ،حکومتی اقدام واپس لینے کامطالبہ
آبی بحران کے حل کیلیے 10 تجاویززیرِغورہیں،ڈیم نہ بننا نئی حکومت کے لیے بڑاچیلنج ہوگا، وزیر اطلاعات۔ فوٹو: سوشل میڈیا
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر اور قانون دان بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ کون سا قانون حکومت کو دہشت گردی کی آڑ میں کسی صوبے پر قبضہ کرنے، صوبائی حکومت ہٹانے اور منتخب وزیراعلیٰ و کابینہ کو گرفتار کرنے کی اجازت دیتا ہے؟ آئین کی کس شق میں یہ اختیار دیا گیا ہے؟
سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ وہ محسن نقوی کو بتانا چاہتے ہیں کہ آئین کی کس طرح خلاف ورزی کی گئی ہے۔ حکومت نے وزیراعلیٰ، اسپیکر اور دیگر وزرا کو گرفتار کرلیا، جو آئین شکنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کو شکست دینے کے معاملے پر ہم سب اکٹھے ہیں، لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑتے ہوئے آئین کو ردی کی ٹوکری میں نہیں پھینک دینا چاہیے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کون سا قانون دہشت گردی کی آڑ میں ایک صوبے پر قبضے اور صوبائی حکومت ہٹانے کی اجازت دیتا ہے؟
بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آئین گورنر راج یا ایمرجنسی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ بیرونی حملے کی صورت میں ایمرجنسی لگائی جاسکتی ہے، جبکہ اندرونی خلفشار کی صورت میں صوبائی اسمبلی قرارداد منظور کرے تو ایمرجنسی نافذ ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 حکومت کو اپنی من مانی سے استعمال کرنے کا اختیار نہیں دیتے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت یہ مؤقف رکھتی ہے کہ صوبائی حکومت دہشت گردی میں ملوث یا دہشت گردوں کی سہولت کار ہے تو اس کے ثبوت ایوان میں پیش کیے جائیں اور گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنے کی سمری بھی ایوان میں لائی جائے۔
پی ٹی آئی سینیٹر نے کہا کہ محسن نقوی نے مذاکرات کے حوالے سے جو بات کی، وہ حقیقت سے متصادم ہے۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات نہیں ہوپارہی تھی اور خیبرپختونخوا میں لوگ ان کی بات نہیں مان رہے تھے، جس سے لگتا ہے کہ مذاکرات کو پہلے ہی ناکام بنانے کا ارادہ تھا۔
بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ حکومت نے ایمرجنسی نافذ کرنے کی بہت بڑی غلطی کی ہے، جبکہ خیبرپختونخوا میں حکومت چل رہی تھی۔ انہوں نے سوال کیا کہ آئین کی کس شق کے تحت وزیراعلیٰ کو ہٹا کر کابینہ ختم کی جاسکتی ہے یا وزیراعلیٰ اور کابینہ کو جیل میں ڈالا جاسکتا ہے؟
انہوں نے کہا کہ حکومت کو ہٹایا جاسکتا ہے، لیکن تحریک ختم نہیں کی جاسکتی اور عوام کی سوچ کو پابند نہیں بنایا جاسکتا۔ ان کے مطابق حکومتی اقدامات سے نہ صرف پی ٹی آئی بلکہ ملک کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے اور ریاست کمزور ہورہی ہے۔
بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اس جنگ میں آئین اور جمہوریت کو ہارنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اپنا اقدام واپس لے اور اپوزیشن کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرے۔