سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید کی بازیابی کے لیے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع
درخواست حنیف اللہ کی جانب سے وکیل سجاد محسود کے توسط سے دائر کی گئی ہے، جس میں انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا، کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر اور دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا
سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید کی بازیابی کے لیے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع
پشاور: گلگت بلتستان کے سابق وزیراعلیٰ خالد خورشید کی مبینہ گمشدگی کے معاملے پر ان کے بیٹے نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے، جس میں ان کی بازیابی اور اسپیکر ہاؤس کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست حنیف اللہ کی جانب سے وکیل سجاد محسود کے توسط سے دائر کی گئی ہے، جس میں انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا، کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر اور دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار کے مؤقف کے مطابق خالد خورشید کو رات تقریباً 2 بجے اسپیکر ہاؤس سے نامعلوم افراد اپنے ساتھ لے گئے۔ درخواست میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ پولیس واقعے کا مقدمہ درج کرنے سے گریز کر رہی ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ پولیس کو واقعے کے مقدمے کے اندراج کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کرنے اور خالد خورشید کی بازیابی کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے کا حکم دیا جائے، تاکہ ان کی موجودگی کا سراغ لگایا جا سکے۔
درخواست میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ اسپیکر ہاؤس میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں، تاکہ مبینہ واقعے سے متعلق شواہد ضائع نہ ہوں۔
تاحال اس معاملے پر متعلقہ حکام کا مؤقف سامنے نہیں آیا، جبکہ درخواست میں لگائے گئے الزامات کی آزادانہ تصدیق ہونا باقی ہے۔