قومی اسمبلی میں محمود خان اچکزئی کا خیبرپختونخوا کے اقدامات واپس لینے کا مطالبہ
کسی قیدی کو ملاقات کی اجازت نہ دینا مجرمانہ فعل ہے، لوگوں کو پریشان کرنے سے گریز کیا جائے، کیونکہ ایسا رویہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
قومی اسمبلی میں محمود خان اچکزئی کا خیبرپختونخوا کے اقدامات واپس لینے کا مطالبہ
اسلام آباد: قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں کیے گئے اقدامات واپس لیے جائیں، ان کا کہنا تھا کہ اب بھی وقت ہے کہ حالات کو مزید خراب ہونے سے بچایا جائے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ کسی قیدی کو ملاقات کی اجازت نہ دینا مجرمانہ فعل ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ لوگوں کو پریشان کرنے سے گریز کیا جائے، کیونکہ ایسا رویہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
اجلاس کے دوران اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے مذاکرات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حکومتی وفد ان کے چیمبر میں موجود تھا، جبکہ اپوزیشن کا وفد کمیٹی روم میں بیٹھا تھا۔
ایاز صادق کے مطابق مذاکرات میں پیش رفت کی امید پیدا ہوگئی تھی اور اپوزیشن کی جانب سے معاہدہ طے پانے پر خوشی کا اظہار بھی کیا جا رہا تھا، تاہم اچانک علامہ ناصر عباس ان کے پاس آئے اور بتایا کہ افسوس کے ساتھ معاہدہ نہیں ہو سکتا۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ حکومت آج بھی مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کو کس نے سبوتاژ کیا، یہ سب کو معلوم ہے، تاہم اس معاملے پر جتنا کم بات کی جائے اتنا بہتر ہوگا۔