سوات میں سی ٹی ڈی اور پولیس کا آپریشن، 3 مطلوب دہشت گرد ہلاک
ہلاک ہونے والوں کی شناخت عبداللہ ولد سید بشر، منصور علی ولد عبدالمطلب اور غفران اللہ ولد افضل خان کے ناموں سے ہوئی ہے
سوات میں سی ٹی ڈی اور پولیس کا آپریشن، 3 مطلوب دہشت گرد ہلاک
سوات میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور ضلعی پولیس نے مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران تین مطلوب دہشت گردوں کو ہلاک کردیا، جبکہ دو دیگر دہشت گرد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق کارروائی علی الصبح تھانہ کانجو کی حدود میں واقع علاقے سخاڈوب میں کی گئی۔ فائرنگ کے تبادلے کے بعد ایک مکان سے تین دہشت گردوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔
ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی شناخت عبداللہ ولد سید بشر، منصور علی ولد عبدالمطلب اور غفران اللہ ولد افضل خان کے ناموں سے ہوئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تینوں کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے کمانڈر مظفر عرف خالد کے گروپ سے تھا۔ ان کے قبضے سے ملنے والے قومی شناختی کارڈز کے مطابق وہ ضلع سوات کے رہائشی تھے۔
سی ٹی ڈی کے مطابق پولیس اہلکاروں کو دیکھتے ہی دہشت گردوں نے فائرنگ شروع کردی، جس پر اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی۔ فائرنگ رکنے کے بعد جائے وقوعہ سے تین لاشیں برآمد ہوئیں، جبکہ دو دہشت گرد فرار ہوگئے۔
کارروائی کے دوران مبینہ طور پر دہشت گردوں کے قبضے سے تین کلاشنکوفیں، چھ میگزین، متعدد کارتوس، گیس سلنڈر، کھانے پینے کے برتن، تھانہ شکردرہ کا ایک نقشہ اور ڈائری بھی برآمد کی گئی۔
ترجمان کے مطابق ہلاک دہشت گردوں میں شامل افضل خان گجر پر فائرنگ کے مختلف واقعات، نعمت علی خان کے گھر اور ڈیرے پر حملے اور سلیم اللہ عرف ساجد نیلا گرام کی ٹارگٹ کلنگ سمیت رواں سال پیش آنے والے متعدد دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات تھے۔
انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید اور ایڈیشنل انسپکٹر جنرل سی ٹی ڈی نے کارروائی میں حصہ لینے والے پولیس اہلکاروں کی کارکردگی کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں دہشت گردی کے خاتمے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔