معاہدے پر دستخط ہوتے تو بانی کو سہولتیں دینے میں ساتھ دیتے،شیری رحمٰن کا پی ٹی آئی کو پیغام
دہشت گردی ایک سرخ لکیر ہے اور اس کے خلاف جنگ پوری ریاست کو مل کر لڑنا ہوگی۔
معاہدے پر دستخط ہوتے تو بانی کو سہولتیں دینے میں ساتھ دیتے،شیری رحمٰن کا پی ٹی آئی کو پیغام
پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ اگر مذاکرات کے دوران معاہدے پر دستخط ہوجاتے تو پیپلز پارٹی بانی پی ٹی آئی کو تمام سہولتیں یقینی بنانے میں تعاون کرتی۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی ایک سرخ لکیر ہے اور اس کے خلاف جنگ پوری ریاست کو مل کر لڑنا ہوگی۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شیری رحمٰن نے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے پہلے مذاکرات کو ترجیح دی گئی تھی۔ بیرسٹر گوہر مذاکرات کے معاملے پر سنجیدہ تھے اور پیپلز پارٹی ان کے جذبے کو سراہتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی کسی بھی ماورائے آئین اقدام کی حمایت نہیں کرتی۔ ان کے مطابق یہ جماعت آئین کی تشکیل میں کردار ادا کرنے کے ساتھ اس کی پاسداری پر بھی یقین رکھتی ہے اور ملک کے لیے اپنے قائدین اور کارکنوں کی قربانیاں دے چکی ہے۔
شیری رحمٰن کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے دور میں تحریک طالبان پاکستان کے افراد کو واپس لایا گیا، جبکہ اب ملک میں ریاستی عملداری بحال کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ مشترکہ حکمت عملی کے تحت لڑنا اور ریاست کا تحفظ یقینی بنانا سب کی ذمہ داری ہے۔
پیپلز پارٹی کی رہنما نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کے دوران اپوزیشن کے متعدد مطالبات تسلیم کیے گئے تھے اور وہ اپنے بیشتر مطالبات منوانے میں کامیاب رہی تھی، تاہم اپوزیشن خود مذاکراتی عمل سے الگ ہوگئی۔ ان کے مطابق بیرونی اثر و رسوخ نے بھی مذاکرات کو متاثر کیا۔
شیری رحمٰن نے کہا کہ لانگ مارچ اور احتجاجی سیاست مسائل کا حل نہیں، بلکہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قومی مفاد، اتحاد اور یکجہتی کو ترجیح دینا ہوگی۔ انہوں نے دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کے عوام کی مشکلات کو سمجھنے اور ان کے مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی ایک فرد کے بجائے ریاست اور عوام کے مفادات کو مقدم رکھا جانا چاہیے۔ شیری رحمٰن کا کہنا تھا کہ رانا ثناء اللہ اور فریال تالپور کی گرفتاریوں کے باوجود پیپلز پارٹی نے لانگ مارچ نہیں کیا، اس لیے حب الوطنی کے حوالے سے انہیں درس دینے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے اپنی سرزمین واپس دینے کا مطالبہ بھی کیا۔