خیبرپختونخوا کے تمام سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کا معائنہ کرنے کا فیصلہ

تمام اضلاع کی جامع رپورٹس 26 اکتوبر 2026 کو دوپہر 12 بجے تک جمع کرائی جائیں۔

October 16, 2026 · قومی
خیبرپختونخوا کے تمام سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کا معائنہ کرنے کا فیصلہ

خیبرپختونخوا کے تمام سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کا معائنہ کرنے کا فیصلہ

خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے بھر کے سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کی حفاظت جانچنے کے لیے تکنیکی معائنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ محکمہ مواصلات و تعمیرات کو ہدایت کی گئی ہے کہ تمام اضلاع کی جامع رپورٹس 26 اکتوبر 2026 کو دوپہر 12 بجے تک جمع کرائی جائیں۔

محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبرپختونخوا نے اس سلسلے میں محکمہ مواصلات و تعمیرات سے تمام اضلاع کے لیے اہل تکنیکی ٹیمیں نامزد کرنے کی درخواست کی ہے۔ یہ اقدام پشاور کے علاقے دیر کالونی میں الخیر ایجوکیشن سسٹم کے ایک کلاس روم کی چھت گرنے کے واقعے کے بعد کیا جا رہا ہے، جس میں انسانی جانوں کا ضیاع ہوا جبکہ طلبہ اور اساتذہ بھی زخمی ہوئے تھے۔

مراسلے کے مطابق نامزد ٹیمیں ضلعی تعلیمی حکام کے تعاون سے سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کا تفصیلی جائزہ لیں گی۔ معائنے کے دوران چھتوں، دیواروں، شہتیروں، بنیادوں، سیڑھیوں اور عمارت کے دیگر حصوں کی حالت جانچنے کے ساتھ ممکنہ تعمیراتی نقائص اور حفاظتی خطرات کی نشاندہی بھی کی جائے گی۔

حکام کے مطابق معائنے کے نتائج کی بنیاد پر اسکولوں کی عمارتوں کو تین مختلف زمروں میں تقسیم کیا جائے گا، تاکہ ان کی موجودہ حالت اور درکار حفاظتی اقدامات کا تعین کیا جا سکے۔

ہدایت میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر کسی اسکول کی عمارت سے طلبہ، اساتذہ یا دیگر عملے کی جان کو فوری خطرہ لاحق ہو تو تکنیکی ٹیمیں مکمل سروے کا انتظار کیے بغیر ضلعی حکام کو مطلع کریں گی۔ ایسی عمارتوں میں داخلہ محدود کرنے یا ان کا استعمال عارضی طور پر بند کرنے جیسے اقدامات بھی کیے جا سکیں گے۔

معائنے کے بعد ہر اسکول کے لیے بلڈنگ سیفٹی کلیئرنس سرٹیفکیٹ یا این او سی بھی جمع کرانا ہوگا۔ محکمہ مواصلات و تعمیرات کی تیار کردہ جامع رپورٹس میں عمارتوں کی درجہ بندی، سامنے آنے والے نقائص، ممکنہ خطرات اور ان کے تدارک کے لیے تجویز کردہ اصلاحی اقدامات کی تفصیلات شامل ہوں گی۔

متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ اسکولوں کی عمارتوں کا معائنہ ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے اور جہاں بھی خطرات کی نشاندہی ہو، وہاں طلبہ اور عملے کی حفاظت کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔