رانا ثنا اللہ کا پی ٹی آئی کو آئینی کردار ادا کرنے کا مشورہ، کہا اب بھی غور کیا جا سکتا ہے
جب بانی پی ٹی آئی عمران خان وزیراعظم تھے تو انہوں نے اپوزیشن لیڈر کو فون تک نہیں کیا، جبکہ موجودہ وزیراعظم شہباز شریف ایوان میں آنے پر اپوزیشن لیڈر سے مصافحہ کرتے ہیں۔
رانا ثنا اللہ کا پی ٹی آئی کو آئینی کردار ادا کرنے کا مشورہ، کہا اب بھی غور کیا جا سکتا ہے
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جب بانی پی ٹی آئی عمران خان وزیراعظم تھے تو انہوں نے اپوزیشن لیڈر کو فون تک نہیں کیا، جبکہ موجودہ وزیراعظم شہباز شریف ایوان میں آنے پر اپوزیشن لیڈر سے مصافحہ کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو بھی اس بات کا افسوس ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کو نظر بند کرنا پڑا، تاہم ان کے بقول لانگ مارچ سے متعلق بیانات اور گورنر ہاؤس پر چڑھائی کی اپیلوں کے باعث صورت حال کو قابو میں رکھنے کے لیے یہ اقدام ضروری سمجھا گیا۔
وزیراعظم کے مشیر نے پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا پر ہونے والی گفتگو پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اس طرزِ عمل سے سیاسی ماحول مزید کشیدہ ہوتا ہے۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی آئینی اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنے پر آمادہ ہوتی تو عبوری نظام کی ضرورت پیش نہ آتی۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی پارٹی اپنے آئینی اور قانونی کردار کی ادائیگی کے لیے تیار ہو تو اس معاملے پر غور کیا جا سکتا ہے۔
دہشت گردی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے خبردار کیا کہ اگر دہشت گردی کا فوری خاتمہ نہ کیا گیا، قوم متحد نہ ہوئی اور وفاقی و صوبائی حکومتوں نے مشترکہ پالیسی اختیار نہ کی تو ملک کی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے بھارت پر الزام عائد کیا کہ وہ پاکستان کے خلاف افغانستان میں اپنے ٹھکانے قائم کرکے مالی معاونت کے ذریعے دہشت گردی کروا رہا ہے۔ ان کے مطابق خطے کے ممالک پاکستان کو سکیورٹی فراہم کرنے والے اہم ملک کے طور پر دیکھتے ہیں۔