شہیدِ ملت لیاقت علی خان کی 75ویں برسی آج منائی جا رہی ہے

سیاسی بصیرت اور اصول پسندی کے باعث انہیں قائدِ ملت کا خطاب دیا گیا۔

October 16, 2026 · قومی
شہیدِ ملت لیاقت علی خان کی 75ویں برسی آج منائی جا رہی ہے

شہیدِ ملت لیاقت علی خان کی 75ویں برسی آج منائی جا رہی ہے

پاکستان کے پہلے وزیراعظم اور تحریکِ پاکستان کے اہم رہنما شہیدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی خان کی 75ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔ وہ قائداعظم محمد علی جناح کے قریبی ساتھی اور قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کرنے والے رہنماؤں میں شامل تھے۔ سیاسی بصیرت اور اصول پسندی کے باعث انہیں قائدِ ملت کا خطاب دیا گیا۔

لیاقت علی خان 16 اکتوبر 1951ء کو راولپنڈی کے کمپنی باغ میں ایک جلسے سے خطاب کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں شہید ہو گئے تھے۔ بعد ازاں کمپنی باغ کو ان کی یاد میں لیاقت باغ کا نام دے دیا گیا۔ ان کے قتل کے محرکات آج تک ایک تاریخی معمہ بنے ہوئے ہیں۔

شہیدِ ملت یکم اکتوبر 1896ء کو ضلع کرنال، مشرقی پنجاب میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک نواب خاندان سے تھا، تاہم انہوں نے تحریکِ پاکستان کے لیے اپنی آسائشوں کو پسِ پشت ڈال کر سیاسی جدوجہد میں حصہ لیا اور قیامِ پاکستان کے بعد ملک کے پہلے وزیراعظم کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں۔

انہوں نے 1918ء میں علی گڑھ سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے آکسفورڈ یونیورسٹی کا رخ کیا۔ 1923ء میں ہندوستان واپسی پر مسلم لیگ میں شامل ہوئے اور 1936ء میں جماعت کے سیکرٹری جنرل مقرر ہوئے۔ وہ قائداعظم کے دستِ راست سمجھے جاتے تھے اور پاکستان کے قیام کے بعد نومبر 1947ء میں ملک کے پہلے وزیراعظم بنے۔

روایات کے مطابق شہادت سے قبل ان کے آخری الفاظ ’’خدا پاکستان کی حفاظت کرے‘‘ تھے۔ انہیں کراچی میں مزارِ قائد کے احاطے میں سپردِ خاک کیا گیا، جہاں وہ بانیٔ پاکستان کے مزار کے قریب مدفون ہیں۔