پنجگور کے نوجوان شہاب نے رضاکارانہ طور پر سرنڈر کر دیا
نوجوانوں کو تشدد کا راستہ چھوڑ کر قومی دھارے میں شامل ہونے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔صوبائی حکام
پنجگور کے نوجوان شہاب نے رضاکارانہ طور پر سرنڈر کر دیا
کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع پنجگور سے تعلق رکھنے والے نوجوان شہاب نے رضاکارانہ طور پر ریاست کے سامنے سرنڈر کر دیا۔ صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ ریاست واپس آنے والوں کا خیرمقدم کرتی ہے اور نوجوانوں کو تشدد کا راستہ چھوڑ کر قومی دھارے میں شامل ہونے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
کوئٹہ میں وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ نے مشترکہ پریس کانفرنس کی، جس میں صوبے کی سیکیورٹی صورت حال اور دہشت گردی کے خلاف جاری اقدامات سے متعلق تفصیلات بتائی گئیں۔
شاہد رند نے کہا کہ بلوچستان کے پہاڑی علاقوں میں موجود بعض نوجوانوں کو ورغلا کر تشدد کے راستے پر ڈالا گیا۔ ان کے مطابق ریاست ایسے افراد کی واپسی کا خیرمقدم کرتی ہے اور بلوچستان کے نوجوانوں کو ریاست کے ساتھ جڑنے کی دعوت دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی اور وزیراعلیٰ بلوچستان اس حوالے سے واضح مؤقف رکھتے ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ نے بتایا کہ اب تک 6 دہشت گرد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست لوگوں کو سرنڈر کرنے اور تشدد کا راستہ ترک کرنے کا موقع دے رہی ہے۔
اس موقع پر ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ عمران شوکت نے بتایا کہ بلوچستان میں 300 سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کیے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق دہشت گرد مختلف طریقوں سے حملوں کی کوشش کرتے ہیں، تاہم کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور دیگر متعلقہ اداروں کے تعاون سے کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔