امریکا کو ایران کے خلاف اقدامات پر سزا ملنی چاہیے،باقر قالیباف

ایران اپنے دفاع اور دشمن کو حملے سے روکنے کے لیے فوجی طاقت کے ساتھ سفارت کاری کو بھی اہمیت دیتا ہے۔

October 16, 2026 · بام دنیا
امریکا کو ایران کے خلاف اقدامات پر سزا ملنی چاہیے،باقر قالیباف

امریکا کو ایران کے خلاف اقدامات پر سزا ملنی چاہیے،باقر قالیباف

ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا کو ایران کے خلاف کیے گئے اقدامات کی قیمت چکانی چاہیے اور اسے اپنا رویہ تبدیل کرتے ہوئے ایرانی عوام کے جائز مطالبات تسلیم کرنا ہوں گے۔ ان کے مطابق ایران اپنے دفاع اور دشمن کو حملے سے روکنے کے لیے فوجی طاقت کے ساتھ سفارت کاری کو بھی اہمیت دیتا ہے۔

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق باقر قالیباف نے کہا کہ پائیدار دفاعی روک تھام کے لیے جنگ اور مذاکرات دونوں کا کردار اہم ہے۔ ایران کی حکمت عملی مستقل جنگ یا صرف مذاکرات تک محدود نہیں، بلکہ دونوں ذرائع استعمال کرکے ایسا دفاعی توازن قائم کرنا ہے جس سے مخالف فریق حملے کی جرأت نہ کرسکے۔

انہوں نے کہا کہ ایران جنگ، مذاکرات اور امن کے روایتی سلسلے کے بجائے ایک نئی حکمت عملی اپنانا چاہتا ہے، جس میں فوجی طاقت، سفارت کاری اور دفاعی توازن کو بنیادی حیثیت حاصل ہو۔ ان کے بقول اس توازن کا مقصد ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ حملے کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔

باقر قالیباف نے خبردار کیا کہ ایران پر حملے کا ارادہ رکھنے والوں کو ماضی کے تجربات سے سبق سیکھنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں کے ذریعے کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

ایرانی پارلیمانی اسپیکر نے امریکی وعدوں پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ محض دستخط شدہ معاہدہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ امریکا دوبارہ ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے مفاہمتی یادداشت کو ایران کی میدانِ جنگ میں حاصل کردہ اسٹریٹجک برتری سے جوڑتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسی صورت حال نے امریکا کو مفاہمت قبول کرنے پر آمادہ کیا۔