مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں ماحولیاتی نسل کشی کے مترادف ہیں،ایرانی صدر
آلودگی اور ماحولیاتی تباہی سرحدوں کی پابند نہیں ہوتیں، اس لیے ان سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ اقدامات ضروری ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں ماحولیاتی نسل کشی کے مترادف ہیں،ایرانی صدر
تہران: ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگوں کے باعث ماحول کو پہنچنے والے نقصان کی مذمت کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ غزہ سمیت خطے کے مختلف علاقوں میں جنگی کارروائیوں نے قدرتی ماحول کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے اثرات کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی صدر نے آرمینیا میں منعقدہ ایک عالمی ماحولیاتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یہ مؤقف پیش کیا۔ اجلاس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس بھی شریک تھے۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ خطے میں جنگوں کے نتیجے میں ہونے والی ماحولیاتی تباہی کو ’ماحولیاتی نسل کشی‘ قرار دیا جانا چاہیے اور عالمی برادری کو اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔
ایرانی صدر کے مطابق جنگوں کے منفی اثرات صرف انسانی جانوں اور بنیادی ڈھانچے تک محدود نہیں رہتے بلکہ قدرتی ماحول کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آلودگی اور ماحولیاتی تباہی سرحدوں کی پابند نہیں ہوتیں، اس لیے ان سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ اقدامات ضروری ہیں۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر علاقوں میں جاری تنازعات کے انسانی، معاشی اور ماحولیاتی اثرات پر بین الاقوامی سطح پر بحث جاری ہے۔