مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کا یورپی سفارت کاروں کے وفد پر حملہ
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بیلجیئم، فرانس، پولینڈ اور کیتھولک چرچ سے وابستہ یورپی سفارت کار رام اللہ کے قریب واقع مسیحی اکثریتی گاؤں طیبہ کے دورے پر تھے
مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کا یورپی سفارت کاروں کے وفد پر حملہ
مقبوضہ مغربی کنارے میں نقاب پوش اسرائیلی آبادکاروں نے یورپی سفارت کاروں کے ایک وفد کو نشانہ بنایا، جس پر بیلجیئم نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسرائیل سے واقعے میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔
واقعے کے بعد بیلجیئم کے وزیر خارجہ نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنا اسرائیلی حکام کی ذمہ داری ہے۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بیلجیئم، فرانس، پولینڈ اور کیتھولک چرچ سے وابستہ یورپی سفارت کار رام اللہ کے قریب واقع مسیحی اکثریتی گاؤں طیبہ کے دورے پر تھے۔ وفد علاقے کی صورتحال کا جائزہ لینے گیا تھا، جہاں فلسطینیوں کو زیتون کی فصل کی کٹائی کے دوران اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں کا سامنا کرنے کی اطلاعات ہیں۔
واقعے کی سامنے آنے والی ویڈیو میں نقاب پوش افراد کو سفارتی قافلے کا راستہ روکتے اور پتھر پھینکتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ بیلجیئم کے حکام کے مطابق ان کے قونصل خانے کی ایک گاڑی کا شیشہ بھی توڑ دیا گیا، جبکہ ایک فرانسیسی میئر پر حملے کی بھی اطلاع ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے واقعے سے متعلق شکوک کا اظہار کرتے ہوئے امکان ظاہر کیا کہ یہ اسرائیل کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہوسکتی ہے۔
یہ واقعہ مغربی کنارے کے ایک دوسرے گاؤں میں آبادکاروں کے حملے کے ایک روز بعد پیش آیا، جس میں متعدد فلسطینیوں کے ساتھ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی فوٹوگرافر ہیڈی لیوین بھی زخمی ہوئی تھیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے فوٹوگرافر پر حملے کو تشویش ناک قرار دیا، جبکہ اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکبی نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے نقاب پوش افراد کی جانب سے قابل مذمت تشدد قرار دیا۔
بیلجیئم کے وزیر خارجہ نے کہا کہ فلسطینی روزانہ ایسے تشدد کا سامنا کرتے ہیں اور صحافیوں و سفارت کاروں کو بھی نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ زیتون کی فصل کاٹنے، صحافتی ذمہ داریاں ادا کرنے یا سفارتی فرائض انجام دینے والے افراد کو حملوں کے خطرے سے دوچار نہیں ہونا چاہیے۔