سہیل آفریدی مذاکراتی مسودے کی منظوری کہاں سے لے رہے تھے؟طارق فضل چوہدری کا دعویٰ

وزیرِ اعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایات پر شروع ہونے والے مذاکرات مثبت پیش رفت کر رہے تھے اور حکومت کو ان کے کامیاب ہونے کی امید تھی۔

October 20, 2026 · قومی
سہیل آفریدی مذاکراتی مسودے کی منظوری کہاں سے لے رہے تھے؟طارق فضل چوہدری کا دعویٰ

سہیل آفریدی مذاکراتی مسودے کی منظوری کہاں سے لے رہے تھے؟طارق فضل چوہدری کا دعویٰ

اسلام آباد: وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی مذاکرات کے لیے تیار کیے گئے مسودے کی منظوری کے سلسلے میں افغانستان سے رابطے میں تھے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایات پر شروع ہونے والے مذاکرات مثبت پیش رفت کر رہے تھے اور حکومت کو ان کے کامیاب ہونے کی امید تھی۔

ان کے مطابق مذاکرات کے دوران چوتھا مسودہ تیار کیا گیا تھا، جس کی حتمی منظوری وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے دینی تھی۔ تاہم، طارق فضل چوہدری نے دعویٰ کیا کہ اطلاعات کے مطابق سہیل آفریدی اس مسودے کی منظوری کے لیے افغانستان سے ہدایات لے رہے تھے۔ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ محمود خان اچکزئی کا مؤقف تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے بغیر مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں۔ ان کے مطابق اگر اس وقت ملاقات کے لیے وقت مقرر کر لیا جاتا اور کسی متفقہ حل پر اتفاق ہو جاتا تو ملک کی سیاسی صورتحال مختلف ہو سکتی تھی۔

پی ٹی آئی کی مستقبل کی حکمت عملی کے حوالے سے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اگر پارٹی نے اسمبلیوں سے استعفے دینے کا فیصلہ کیا تو ان کی جماعت کے 40 ارکان اس فیصلے کا حصہ نہیں بنیں گے اور اپنی نشستوں پر برقرار رہیں گے۔