میر رضا کو قتل کیا گیا،سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن رپورٹ جاری کردی

پولیس اہلکاروں کےکردار کی جانچ کیلئے ایف آئی اےکی سربراہی میں اعلیٰ سطحی کمیٹی بنانےکی سفارزش

October 20, 2026 · قومی

فائل فوٹو

کراچی: سندھ حکومت نے میر رضا علی کیس کے حوالے سے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ شائع کردی، جس میں میر رضا کی موت کو خودکشی قرار دینے کے ابتدائی پولیس مؤقف پر سوالات اٹھائے گئے ہیں اور مزید تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق جوڈیشل کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ میر رضا علی قتل کیس میں پولیس تفتیش کے دوران سنگین کوتاہیاں ہوئیں۔ کمیشن نے موت کو خودکشی قرار دینے کے ابتدائی پولیس مؤقف پر بھی سوالات اٹھائے۔

رپورٹ کے مطابق حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ پشت سے لگنے والی گولی کے زخم کو قرار دیا گیا۔ کمیشن نے لکھا کہ ابتدائی تفتیش میں ممکنہ طور پر حقائق چھپانے یا معاملے پر پردہ ڈالنے کے خدشے کو مکمل طور پر خارج نہیں کیا جا سکتا۔

جوڈیشل کمیشن نے میر رضا علی قتل کیس کی مزید تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی سربراہی میں جے آئی ٹی تشکیل دینے کی سفارش کی ہے، جس میں آئی ایس آئی، آئی بی، پاکستان رینجرز سندھ اور سائبر کرائم ایجنسی کے نمائندے شامل ہوں۔

کمیشن نے پولیس اہلکاروں کے کردار کی تحقیقات کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دینے کی سفارش بھی کی ہے۔