35 ارب روپے کے جعلی امریکی ڈاک ٹکٹوں کا مبینہ فراڈ، فہیم اکرم لاہور سے گرفتار
امریکی حکام کو مطلوب ملزم کی گرفتاری،جعلی ڈاک ٹکٹوں کی فروخت میں35ارب روپے کے فراڈ کا الزام
امریکی حکام کے مطابق 33 سالہ فہیم اکرم کا تعلق پنجاب کے شہر خانیوال سے ہے
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے 35 ارب روپے مالیت کے جعلی امریکی ڈاک ٹکٹوں اور شپنگ لیبلز کی آن لائن فروخت کے الزام میں امریکہ کو مطلوب ملزم فہیم اکرم کو لاہور سے گرفتار کر لیا ہے۔
این سی سی آئی اے کے ایک عہدیدار نے بی بی سی اردو سے گفتگو میں ملزم کی لاہور سے گرفتاری کی تصدیق کی۔ ایجنسی کے لاہور زون کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ملزم پر 35 ارب روپے کے فراڈ میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔
امریکہ نے 5 ستمبر کو خانیوال سے تعلق رکھنے والے فہیم اکرم کی گرفتاری میں مدد دینے پر ایک لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کیا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق 33 سالہ فہیم اکرم پر جعلی ڈاک ٹکٹوں اور شپنگ لیبلز کا نیٹ ورک چلانے کے الزام میں فرد جرم عائد کی گئی ہے۔
این سی سی آئی اے کے مطابق ایڈیشنل ڈائریکٹر لاہور زون عاطف امیر کی نگرانی میں ہونے والی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ملزم اگست 2023 سے ستمبر 2026 تک LabelsBank.com کے نام سے ویب سائٹ چلا رہا تھا، جس کے ذریعے 50 لاکھ سے زائد جعلی امریکی ڈاک ٹکٹ اور پوسٹل لیبلز فروخت کیے گئے۔ ہر لیبل کے عوض دو امریکی ڈالر وصول کیے جاتے تھے، جبکہ ان کی مجموعی مالیت پاکستانی کرنسی میں تقریباً 35 ارب روپے بنتی ہے۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق اس مبینہ فراڈ سے امریکی پوسٹل سروس کو 12 کروڑ 60 لاکھ ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچا۔
تحقیقات میں 16 بینک اکاؤنٹس کے استعمال کا انکشاف
این سی سی آئی اے کے مطابق تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ مبینہ فراڈ کے لیے 16 بینک اکاؤنٹس استعمال کیے گئے۔ ان میں ملزم کے سات، اس کے بھائی کے پانچ، اہلیہ کے دو، جبکہ بہن اور خالہ کے ایک، ایک اکاؤنٹ شامل ہیں۔
اس معاملے میں مقدمہ نمبر 246/2026 درج کرکے مزید تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ ایجنسی کے مطابق پنجاب، اسلام آباد اور سندھ میں آٹھ خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں، جنہوں نے مختلف مقامات پر مجموعی طور پر 35 چھاپے مارے اور 47 افراد سے پوچھ گچھ کی۔
تفتیشی ٹیموں نے جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے 122 کال ڈیٹا ریکارڈز، 50 آئی ایم ای آئی ٹریکنگ رپورٹس اور 120 کیمروں کی ویڈیو و آڈیو ریکارڈنگ کا تفصیلی تجزیہ کیا۔ ملزم کا سراغ لگانے کے لیے 10 روز تک خصوصی لوکیٹر آپریشن بھی جاری رہا، جس کے بعد اسے گرفتار کر لیا گیا۔
این سی سی آئی اے کے مطابق ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے، جس میں جعلی امریکی ڈاک ٹکٹوں کی آن لائن فروخت، مالی لین دین، استعمال کیے گئے بینک اکاؤنٹس اور نیٹ ورک سے منسلک دیگر افراد کے کردار کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام نے ویب سائٹ بند کردی تھی
اس سے قبل امریکی اٹارنی جیسن اے ریڈنگ کوئینونیز نے بتایا تھا کہ امریکی حکام نے فہیم اکرم کی ویب سائٹ بند کردی ہے اور اس کی گرفتاری کے لیے عوام سے معلومات فراہم کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
امریکی حکام نے خبردار کیا تھا کہ کوئی شخص ملزم کو خود گرفتار کرنے کی کوشش نہ کرے، بلکہ اس کے بارے میں معلومات امریکی حکام کو فراہم کرے۔ امریکی پوسٹل انسپیکشن سروس نے ملزم کی گرفتاری اور سزا تک پہنچانے والی معلومات فراہم کرنے پر ایک لاکھ ڈالر تک انعام مقرر کیا تھا۔
بی بی سی اردو کے مطابق اس سے قبل پاکستانی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ امریکی حکام نے ڈاک ٹکٹوں کے کیس کے حوالے سے پاکستان سے باضابطہ رابطہ نہیں کیا۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بھی کہا تھا کہ حکومت پاکستان کو اس کیس میں امریکی حکام کی جانب سے کوئی باقاعدہ درخواست موصول نہیں ہوئی۔
ان کے مطابق ایسے معاملات میں غیرملکی حکام اپنے متعلقہ سفارت خانے کے ذریعے درخواست بھیجتے ہیں، جو بعد میں حکومت پاکستان کو موصول ہوتی ہے۔
فہیم اکرم کا تعلق خانیوال سے ہے
خانیوال کے ایک سینئر پولیس افسر اور وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق ابتدائی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ فہیم اکرم خانیوال کی پیپلز کالونی کے رہائشی اور سافٹ ویئر انجینئرنگ کی تعلیم یافتہ ہیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ان کا ایک بھائی بھی مبینہ طور پر اس کاروبار سے منسلک تھا۔
پولیس افسر کے مطابق فہیم اکرم اور ان کے ساتھ کاروبار کرنے والے افراد کے بارے میں معلومات جمع کرنے کی ہدایات موصول ہوئی تھیں، جبکہ ابتدائی معلومات وزارت داخلہ کے ساتھ شیئر کی گئی تھیں۔
مقامی رہائشی حبیب الرحمن نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ فہیم اکرم تقریباً تین سال پہلے تک اپنے والد کے ساتھ پراپرٹی کے کاروبار سے منسلک تھے، تاہم بعد میں انہوں نے اپنا کاروبار شروع کیا اور ان کے مالی حالات بہتر ہوگئے۔
خانیوال کے مقامی صحافی احمد رضا کے مطابق فہیم اکرم تین سے چار سال سے آن لائن کاروبار کر رہے تھے، جبکہ ڈاک ٹکٹوں کا کاروبار تقریباً دو سال پہلے شروع کیا گیا۔ ان کے مطابق فہیم اکرم کا والد پراپرٹی کا کاروبار کرتے تھے اور خاندان نے علاقے میں جائیداد بھی خریدی تھی۔
احمد رضا نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ فہیم اکرم کی ایک فاسٹ فوڈ چین میں بھی شراکت داری ہے۔ ان کے مطابق فہیم اکرم اور ان کا بھائی روپوش تھے۔
پولیس کی جانب سے جمع کی گئی ابتدائی معلومات میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا تھا کہ امریکہ میں قانونی کارروائی شروع ہونے کے ابتدائی مرحلے میں فہیم اکرم اور ان کے بھائی پاکستان چھوڑ گئے تھے۔ وزارت داخلہ کو بھیجی گئی رپورٹ کے مطابق فہیم اکرم اپنا کاروبار پاکستان سے چلا رہے تھے اور 2025 میں سعودی عرب گئے تھے، جس کے بعد ایف آئی اے کے ریکارڈ میں ان کے کسی بیرون ملک سفر کا حوالہ موجود نہیں تھا۔
ویب سائٹ کے ذریعے جعلی لیبلز فروخت کرنے کا الزام
بی بی سی اردو کے مطابق فہیم اکرم کے خلاف امریکی فرد جرم کی عدالتی دستاویزات میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر LabelsBank.com قائم کی، جسے جعلی امریکی ڈاک ٹکٹوں اور پوسٹل لیبلز کی تیاری اور فروخت کے لیے استعمال کیا گیا۔
استغاثہ کے مطابق ویب سائٹ کے ذریعے امریکہ بھر میں جعلی پوسٹل لیبلز کی تشہیر کی جاتی اور انہیں تقریباً دو ڈالر فی لیبل فروخت کیا جاتا تھا، چاہے پارسل کا وزن، ڈیلیوری ایڈریس یا شپنگ سروس مختلف ہو۔
امریکی حکام کے مطابق یہ قیمتیں اصل ڈاک فیس سے بہت کم تھیں، جس کے باعث ہزاروں صارفین نے مبینہ جعلی لیبلز خریدے۔ استغاثہ کا الزام ہے کہ ان لیبلز کے ذریعے بھیجے گئے پارسلوں کی ڈاک فیس امریکی پوسٹل سروس کو ادا نہیں کی جاتی تھی، جس سے ادارے کو آمدنی کا نقصان اٹھانا پڑا اور ترسیل کے اخراجات بھی برداشت کرنا پڑے۔
فرد جرم کے مطابق مبینہ سازش کے دوران 51 لاکھ سے زائد جعلی پوسٹل لیبلز 5,200 سے زیادہ افراد کو فروخت کیے گئے۔ استغاثہ نے الزام لگایا کہ اس سرگرمی سے امریکی پوسٹل سروس کو تقریباً 12 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کا نقصان ہوا۔
واٹس ایپ پیغامات اور مالی لین دین سے متعلق الزامات
امریکی فرد جرم کے مطابق گاہکوں سے رابطے کے لیے واٹس ایپ سمیت مختلف الیکٹرانک ذرائع استعمال کیے گئے، جبکہ ادائیگیاں وائر ٹرانسفر کے ذریعے وصول کی جاتی تھیں۔ صارفین ویب سائٹ پر اکاؤنٹ بنا کر رقم منتقل کرنے کے بعد مبینہ جعلی پوسٹل لیبلز ڈاؤن لوڈ کرتے اور انہیں پارسل بھیجنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔
استغاثہ نے بعض واٹس ایپ گفتگوؤں کا حوالہ بھی دیا۔ فرد جرم کے مطابق ایک صارف کی جانب سے امریکی پوسٹل سروس کے لیبل قبول نہ کرنے کی شکایت پر اسے ڈراپ آف پوائنٹ تبدیل کرنے اور اسکیننگ کے لیے دوسری جگہ جانے کا مشورہ دیا گیا۔
ایک اور مبینہ گفتگو میں ان لیبلز کو ایسے لیبلز قرار دیا گیا جو کام تو کرتے ہیں، لیکن امریکی پوسٹل سروس کو ان سے آمدنی حاصل نہیں ہوتی۔
فرد جرم کے مطابق اکتوبر 2025 میں ایک ممکنہ صارف کو کرپٹو کرنسی ایکسچینج کے ایسے والیٹ ایڈریس پر ادائیگی کرنے کا مشورہ دیا گیا جو استغاثہ کے مطابق فہیم اکرم کے نام سے منسلک تھا۔ جون 2026 میں ایک اور صارف کو پاکستان میں قائم مالیاتی ادارے کے ایسے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات فراہم کی گئیں جو فرد جرم کے مطابق فہیم اکرم کے نام پر تھا۔
امریکی استغاثہ نے فہیم اکرم پر امریکہ اور امریکی پوسٹل سروس کو دھوکہ دینے کی سازش، جعلی پوسٹل لیبلز بنانے اور فروخت کرنے، اور وائر فراڈ کے متعدد الزامات عائد کیے ہیں۔ فرد جرم میں مقدمے میں سزا کی صورت میں ویب سائٹ کے ڈومین اور مبینہ جرم سے حاصل ہونے والے اثاثوں کو ضبط کرنے کی درخواست بھی شامل ہے۔