فیلڈ مارشل عاصم منیرکی ایرانی صدر اور اسپیکر سے ملاقات

دھمکیاں اور فوجی مشقیں ایران کے اسٹریٹجک فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہو سکتیں ، اسپیکر باقر قالیباف

October 20, 2026 · اہم خبریں, قومی
فوٹو سرکاری ٹی وی

فوٹو سرکاری ٹی وی

تہران: ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور ایرانی پارلیمان کے اسپیکر باقر قالیباف نے تہران میں پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی ہے ۔

عاصم منیر ایران کے اعلیٰ حکام سے بات چیت کے لیے منگل کو تہران پہنچے تھے اور اُن کے ساتھ اس دورے پر پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی ہیں۔

 دریں اثنا فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران میں ایرانی پارلیمان کے اسپیکر باقر قالیباف سے بھی ملاقات کی ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات میں باقر قالیباف نے کہا کہ ایران کی جانب سے امریکہ کو پیش کی گئی سات شرائط پورا ہونے تک امریکہ ایران کا اعتماد حاصل نہیں کر سکتا۔

باقر قالیباف نے کہا کہ ایران جنگ پسند نہیں ، لیکن وہ اپنے وطن اور قومی وقار کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ دھمکیاں اور فوجی مشقیں ایران کے اسٹریٹجک فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہو سکتیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ یہ امریکہ ہی تھا جو غلط اندازوں اور ایران کے خلاف جنگ چھیڑنے کی وجہ سے خود ایک دلدل میں پھنس گیا؛ اب یہ انھی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس صورتحال سے نکلنے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔

جنگ بندی کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر کا تہران کا یہ چوتھا سرکاری دورہ ہے۔

اس سے قبل دو ستمبر کو اپنے دورۂ ایران کے دوران انھوں نے صدر مسعود پزشکیان، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی، پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف، وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور وزیرِ داخلہ سکندر مومنی سے ملاقاتیں کی تھیں۔

اب سے کُچھ دیر قبل یہ خبر بھی ایرانی خبر رساں ادارے ارنا پر سامنے آئی تھی کہ پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششیں جاری رکھے گا۔

منگل کو تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہانِ حکومت کے 25ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ علاقائی کشیدگی کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری سب سے مؤثر ذرائع ہیں۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کے ساتھ ساتھ فیلڈ مارشل بھی ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔