بلوچستان میں گندم کا بحران شدت اختیار کرگیا، آٹے کی قیمتیں بڑھ گئیں
خضدار، چاغی، واشک، کیچ اور دیگر اضلاع میں 50 کلو آٹے کی بوری 8 ہزار روپے سے تجاوز کرگئی ہے۔
بلوچستان میں گندم کا بحران شدت اختیار کرگیا، آٹے کی قیمتیں بڑھ گئیں
کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں گندم کی قلت کے باعث آٹے کا بحران سنگین ہوگیا ہے، جبکہ سرکاری سطح پر گندم کی خریداری بھی تاحال مکمل نہیں ہوسکی۔
ذرائع کے مطابق بلوچستان حکومت اب تک پاسکو سے ایک لاکھ بوری گندم بھی حاصل نہیں کرسکی۔ گزشتہ کئی ماہ سے محکمہ خوراک بلوچستان اور پاسکو کے درمیان گندم کی خریداری کے حوالے سے بات چیت جاری ہے، تاہم اس سلسلے میں تاحال پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
دوسری جانب مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ کوئٹہ میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت بڑھ کر 3 ہزار 330 روپے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ خضدار، چاغی، واشک، کیچ اور دیگر اضلاع میں 50 کلو آٹے کی بوری 8 ہزار روپے سے تجاوز کرگئی ہے۔
سیکرٹری خوراک بلوچستان کے مطابق پاسکو سے گندم کی خریداری کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آٹے کی قیمتوں کا تعین کرنا اور مقررہ نرخوں پر عمل درآمد یقینی بنانا محکمہ صنعت اور ڈپٹی کمشنرز کی ذمہ داری ہے۔
بلوچستان میں گندم کی خریداری میں تاخیر اور آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔