پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکہ سے مذاکرات جاری ہیں، ایران کا نیا بیان

رضائی کے بیان کے ایک دن بعد عباس عراقچی نے بات چیت کی تصدیق کردی ، یمن پر سعودی عرب نے جواب نہیں دیا، وزیرخارجہ

October 21, 2026 · اہم خبریں
عباس عراقچی

عباس عراقچی

ایران کے سخت گیر رہنماؤں کی جانب سے امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہ کرنے کے اعلانات کے ایک دن بعد ہی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تصدیق کی ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان پاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ عراقی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایران نے امریکا کو 7 روزہ منصوبہ پیش کیا تھا جس کے تحت چھٹے روز آبنائے ہرمز کو کھولا جانا تھا، تاہم امریکی فریق نے شرائط سے اتفاق کے ساتھ چند مزید شقیں شامل کرنے کی خواہش ظاہر کی۔

عباس عراقچی نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ حتمی معاہدے تک آبنائے ہرمز بند رہے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران چاہتا ہے کہ دیگر معاملات پر بات چیت سے پہلے امریکا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنے تمام وعدے پورے کرے، کیونکہ ماضی کے تلخ تجربات کے باعث تہران کو امریکی فریق پر مکمل بھروسہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کوئی بین الاقوامی آبی گزرگاہ نہیں بلکہ ایران اور عمان کی علاقائی سمندری حدود میں واقع ہے، اور اس حوالے سے تہران اور مسقط کے درمیان بحری آمد و رفت کا مخصوص نقشہ بھی تیار کیا جا چکا ہے۔

علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے بتایا کہ سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان لڑائی ختم کرانے کے لیے ایران نے ثالثی کی پیشکش کی تھی، لیکن تاحال کسی بھی فریق کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یمن تنازع میں مصر سمیت کسی بھی بیرونی ملک کی فوجی مداخلت سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔