موجودہ نظام مؤثر نہیں رہا، ملک چلانے والوں کو احساس ہو چکا ہے: مصطفیٰ کمال

صحت کے شعبے میں اصلاحات صرف حکومت کے لیے ممکن نہیں، اس مقصد کے لیے نجی شعبے اور جامعات کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے

October 22, 2026 · قومی
موجودہ نظام مؤثر نہیں رہا، ملک چلانے والوں کو احساس ہو چکا ہے: مصطفیٰ کمال

موجودہ نظام مؤثر نہیں رہا، ملک چلانے والوں کو احساس ہو چکا ہے: مصطفیٰ کمال

کراچی: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ملک چلانے والوں کو احساس ہو چکا ہے کہ موجودہ نظام مؤثر ثابت نہیں ہو رہا، جبکہ انتظامی یونٹس اور طرز حکمرانی میں تبدیلی کے حوالے سے ملک میں سنجیدہ مکالمہ جاری ہے۔

کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ دنیا بیماریوں کے علاج کے ساتھ ساتھ ان سے بچاؤ پر بھی توجہ دے رہی ہے، اس لیے پاکستان کو بھی احتیاطی تدابیر اور بیماریوں کی روک تھام میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں اصلاحات صرف حکومت کے لیے ممکن نہیں، اس مقصد کے لیے نجی شعبے اور جامعات کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ہسپتالوں کی تعداد بڑھانا ہی کافی نہیں بلکہ بیماریوں کی روک تھام کے ذریعے مریضوں کی تعداد کم کرنا بھی ضروری ہے۔

وفاقی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ آبادی میں مسلسل اضافے کے باعث ملک کا صحت کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے دورانِ زچگی ماؤں کی اموات اور بچوں کی روزانہ اموات کی تعداد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صحت کے شعبے میں مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

مصطفیٰ کمال نے چند روز قبل اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کراچی اور سندھ کے مسائل پر بھی بات کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں پینے کے پانی کی قلت، بجلی اور گیس کی عدم دستیابی سمیت بنیادی شہری سہولیات کے مسائل سنگین صورت اختیار کر چکے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ کراچی کے 80 فیصد گھروں میں پینے کا پانی دستیاب نہیں اور شہر کے مختلف علاقوں میں شہری پانی کی قلت سے متاثر ہیں۔ ان کے مطابق کراچی کی یونیورسٹی روڈ گزشتہ سات سال سے خراب حالت میں ہے، جس کے باعث لاکھوں افراد کے کاروبار متاثر ہوئے ہیں۔

وفاقی وزیر نے شہر میں اسٹریٹ کرائم اور شہری سہولیات کی خراب صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی جیسے بڑے شہر کے مسائل حل کرنے کے لیے انتظامی ڈھانچے پر نظرثانی ضروری ہے۔

مصطفیٰ کمال نے چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام کو سندھ اور پاکستان کے مسائل کے حل کے لیے اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کراچی کے مسائل حل ہوتے دکھائی دیے تو وہ صوبائی حکومت کی حمایت کریں گے۔