اسلام آباد ہائیکورٹ کا 30 سال خدمات انجام دینے والے سرکاری ملازم کو پنشن ادا کرنے کا حکم

عدالتی فیصلے کی مصدقہ نقل موصول ہونے کے 30 دن کے اندر تمام ضروری کارروائی مکمل کرکے پنشن اور ریٹائرمنٹ مراعات ادا کی جائیں۔

October 24, 2026 · قومی
اسلام آباد ہائیکورٹ کا 30 سال خدمات انجام دینے والے سرکاری ملازم کو پنشن ادا کرنے کا حکم

اسلام آباد ہائیکورٹ کا 30 سال خدمات انجام دینے والے سرکاری ملازم کو پنشن ادا کرنے کا حکم

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے تقریباً 30 سال سرکاری خدمات انجام دینے کے بعد ریٹائر ہونے والے ملازم نوید اللہ کی پنشن اور ریٹائرمنٹ واجبات جاری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

جسٹس شاہ رخ ارجمند نے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے وزارتِ خزانہ اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ عدالتی فیصلے کی مصدقہ نقل موصول ہونے کے 30 دن کے اندر تمام ضروری کارروائی مکمل کرکے پنشن اور ریٹائرمنٹ مراعات ادا کی جائیں۔

فیصلے میں عدالت نے واضح کیا کہ پنشن کوئی خیرات، رعایت یا عطیہ نہیں بلکہ ملازم کا قانونی اور آئینی حق ہے۔ پنشن دورانِ ملازمت انجام دی جانے والی خدمات کا مؤخر شدہ معاوضہ ہے، جو ریٹائرمنٹ کے بعد مالی تحفظ فراہم کرتا ہے۔

وزارتِ خزانہ کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ 2008 میں ملازم کی کنٹریکٹ بنیادوں پر تعیناتی فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) کے ذریعے نہیں ہوئی تھی۔ تاہم عدالت نے قرار دیا کہ بھرتی کا طریقہ کار طے کرنا اور معاملہ ایف پی ایس سی کو بھجوانا متعلقہ ادارے کی ذمہ داری تھی، اس کی سزا ملازم کو نہیں دی جاسکتی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ طویل عرصے تک ملازم کی خدمات تسلیم کرنے کے بعد ریٹائرمنٹ کے موقع پر پنشن روکنا غیرقانونی ہے۔ پنشن کیس کو ملازمت کی مستقلی، ریگولرائزیشن اور گریڈ 17 کی منظوری سے متعلق تمام احکامات کو مدنظر رکھتے ہوئے حتمی شکل دینے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق نوید اللہ نے 28 مئی 1995 کو وزارتِ خوراک و زراعت میں گریڈنگ انسپکٹر کی حیثیت سے ملازمت شروع کی تھی، جبکہ 16 اگست 1997 کو ان کی خدمات مستقل کردی گئی تھیں۔

اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحت وزارتوں کی تنظیمِ نو کے بعد انہیں سینٹرل ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل سیونگز منتقل کردیا گیا۔ کابینہ کی ذیلی کمیٹی کے فیصلے کی روشنی میں 2012 میں ان کی ملازمت ریگولرائز کی گئی، جبکہ 2015 میں نیشنل سیونگز میں مستقلی کا عمل مکمل ہوا۔

نوید اللہ 22 اپریل 2025 کو ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچے۔ تقریباً 30 سالہ ملازمت مکمل کرنے کے باوجود پنشن اور دیگر واجبات ادا نہ ہونے پر انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔