حق مہر،علیحدہ رہائش اور زچگی اخراجات،ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم
جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے شکیلہ بی بی کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کیا۔
حق مہر،علیحدہ رہائش اور زچگی اخراجات،ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم
لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے حق مہر، علیحدہ رہائش اور زچگی کے اخراجات کی ادائیگی سے متعلق مقدمے میں فیملی کورٹ اور سیشن کورٹ کے سابقہ فیصلے منسوخ کرتے ہوئے معاملہ دوبارہ سماعت کے لیے فیملی کورٹ کو بھیج دیا ہے۔
جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے شکیلہ بی بی کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کیا۔ عدالتی فیصلے کے مطابق خاتون اور ان کے شوہر کے درمیان ایک تحریری معاہدہ طے پایا تھا، جس میں علیحدہ رہائش فراہم کرنے، حق مہر کے طور پر ایک تولہ سونا دینے اور زچگی کے اخراجات کی مد میں 30 ہزار روپے ادا کرنے کی شرائط شامل تھیں۔
خاتون نے معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے پر تین سال بعد عدالت سے رجوع کیا، تاہم شوہر نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست مقررہ مدت کے اندر دائر نہیں کی گئی۔
ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ ماتحت عدالتوں نے مقدمے میں شامل قانونی نکات کا مکمل جائزہ نہیں لیا۔ عدالت نے فیملی کورٹ کو ہدایت کی کہ وہ معاملے کی دوبارہ سماعت کرتے ہوئے قانون کے مطابق 60 روز کے اندر فیصلہ کرے۔
اب فیملی کورٹ یہ طے کرے گی کہ معاہدے کی شرائط پر عمل کیا گیا یا نہیں اور معاہدے کی قانونی حیثیت کیا ہے۔
تحریری فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ نابالغ بچوں کے ماہانہ نان و نفقہ کا معاملہ دیگر ازدواجی حقوق سے الگ بنیاد پر دیکھا جائے گا۔