لاہور ڈیفنس زیادتی کیس میں نیا موڑ،پولیس کا ملزم احمد تنویر کی تفتیش جاری رکھنے کا فیصلہ
اہم پیش رفت، متاثرہ خاتون کا یوٹرن، پولیس نے عدالتی بیان کو حتمی قرار دے دیا
فائل فوٹو
لاہور کے علاقے ڈیفنس میں آذربائیجان کی غیر ملکی خاتون ڈیانا سے مبینہ زیادتی اور ڈکیتی کے مقدمے میں ایک نیا اور اہم موڑ سامنے آیا ہے۔ پولیس حکام نے متاثرہ لڑکی کے سوشل میڈیا پر جاری ہونے والے حالیہ ویڈیو بیان کے باوجود مرکزی نامزد ملزم احمد تنویر کے خلاف تفتیش ہر صورت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکی کا ویڈیو بیان مجسٹریٹ کے سامنے دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کروائے گئے باضابطہ عدالتی بیان کا متبادل یا قانونی نعم البدل ہرگز نہیں ہو سکتا، جس میں وہ ملزم کو نامزد کر چکی ہے۔
ذرائع کے مطابق غیر ملکی خاتون ڈیانا نے اپنے ایک ویڈیو بیان اور آذربائیجان سفارتخانے کے ذریعے بھیجی گئی دستاویز میں دعویٰ کیا ہے کہ احمد تنویر بے گناہ ہے اور اس نے کوئی زیادتی نہیں کی۔ خاتون نے یہ بھی کہا کہ اس کا پہلا بیان مبینہ دباؤ میں تھا اور وہ اب اس معاملے کو مزید آگے نہیں بڑھانا چاہتی۔ تاہم، وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری اور پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس مقدمے میں اغوا اور ڈکیتی کی دفعات بھی شامل ہیں اور دفعہ 164 کا عدالتی بیان حتمی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے محض نئے ویڈیو بیان کی بنیاد پر ملزمان کا بچ نکلنا ناممکن ہے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم احمد تنویر کا تعلق ایک بااثر اور کروڑ پتی خاندان سے ہے اور اس کے والد ایک بڑے کنٹریکٹر ہیں۔ تحقیقاتی اداروں کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ متاثرہ خاتون نے مبینہ طور پر بھاری رقم کے عوض اپنے بیان میں تبدیلی کی ہے اور اس سلسلے میں ملزمان کے رشتہ داروں اور وکیل کے رابطے بھی سامنے آئے ہیں۔ دریں اثنا، سی سی ڈی نے سیشن کورٹ میں ضمانت پر موجود ملزم احمد تنویر کو احاطہ عدالت سے حراست میں لینے کی کوشش کی جس دوران پولیس اور ملزم کے حامیوں کے درمیان تلخ کلامی اور دھکم پیل بھی ہوئی، جبکہ پولیس نے واضح کیا ہے کہ دستیاب شواہد اور حالات و واقعات کی روشنی میں تفتیش تمام پہلوؤں سے جاری رکھی جائے گی۔