ایرانی باؤزرز کو پاکستان آنے کی اجازت مل گئی، ایل ہی جی قیمتوں میں کمی کا امکان
اہم پیش رفت، ایرانی ایل پی جی باؤزرز کو اجازت مل گئی، قیمتیں کم ہوں گی۔
ایرانی ایل پی جی باؤزرز کو پاکستان آنے کی اجازت مل گئی، آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں فی کلو قیمت 50 روپے تک کم ہونے کا امکان۔
لاہور سمیت پنجاب بھر میں ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز نے مبینہ بلیک میلنگ اور جرمانوں کے خلاف دو روزہ ہڑتال کی، جس کے باعث بیشتر دکانیں بند رہیں۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ انہیں مہنگی ایل پی جی فروخت کی جاتی ہے جبکہ جرمانے پیرا فورس کی جانب سے کیے جاتے ہیں۔ دکانداروں کے مطابق ان کے 50، 50 ہزار روپے مالیت کے پمپ اٹھا کر لے جائے گئے اور الگ سے جرمانے بھی عائد کیے گئے۔ دکانداروں کا الزام ہے کہ اوگرا پلانٹ مالکان کے خلاف کارروائی نہیں کرتا جبکہ پولیس دکانداروں کو پکڑ لیتی ہے۔
دوسری جانب مہنگی ایل پی جی خریدنے والے صارفین کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں فی کلو قیمت میں 50 روپے تک کی کمی کا قوی امکان ہے۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کی ایل پی جی سٹینڈنگ کمیٹی کے کنوینئر علی حیدر کے مطابق 16 اکتوبر تک لوڈ کیے گئے ایرانی ایل پی جی باؤزرز کو پاکستان آنے کی اجازت مل گئی ہے، اور تقریباً 900 سے 1000 باؤزرز کی آمد سے سپلائی بہتر ہو جائے گی۔
علی حیدر کا کہنا ہے کہ اوگرا کا ایل پی جی کی قیمتوں کے تعین کا فارمولا درست نہیں ہے اور قیمتوں کا تعین ماہانہ کے بجائے ہفتہ وار بنیادوں پر ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اکتوبر میں پاکستان نے ایل پی جی کے پانچ جہاز درآمد کیے اور مجموعی طور پر 22 ہزار ٹن ایل پی جی درآمد کی گئی۔ پاکستان میں ایل پی جی کی مجموعی یومیہ طلب 12 سے 13 ہزار ٹن ہے جبکہ کراچی میں روزانہ 4 سے 5 ہزار ٹن ایل پی جی استعمال ہوتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ملک میں حالیہ دنوں میں ایل پی جی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھا گیا ہے جہاں فی کلو قیمت 530 سے 550 روپے تک پہنچ گئی جبکہ 11.8 کلوگرام کا گھریلو سلنڈر 6 ہزار 200 روپے کی بلند ترین سطح پر ریکارڈ ہوا۔ ادارہ شماریات کی جاری کردہ ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ایل پی جی کی قیمت میں 107 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔