حنا جاوید قتل کیس، اہلخانہ کا جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ

پولیس کمیٹی کے نتائج مسترد، وزیراعلیٰ کو خط، مریم نواز کا ذاتی ملاقات کا اعلان

October 25, 2026 · اہم خبریں
حنا جاوید قتل کیس اور پولیس تحقیقات کے خلاف اہلخانہ کا احتجاج اور وزیراعلیٰ پنجاب کا نوٹس

حنا جاوید قتل کیس اور پولیس تحقیقات کے خلاف اہلخانہ کا احتجاج اور وزیراعلیٰ پنجاب کا نوٹس

مقتولہ حنا جاوید کے اہلخانہ نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو کھلا خط لکھ کر پولیس انویسٹی گیشن کمیٹی کے نتائج کو سرے سے مسترد کر دیا ہے اور قتل کی شفاف تحقیقات کیلئے فوری طور پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اہلخانہ کے مطابق، وزیراعلیٰ پنجاب سے براہ راست رابطے کی متعدد کوششیں کی گئیں مگر کامیابی نہیں ملی، جبکہ مختلف فورمز اور حکومتی نمائندوں کے ذریعے پولیس انویسٹی گیشن کمیٹی پر اپنے شدید تحفظات سے آگاہ کیا جا چکا ہے۔ دستاویزات کے مطابق حنا جاوید پر تشدد اور لاش مسخ کیے جانے کی شدت ان کی سفاکیت کی عکاسی کرتی ہے، اور حنا جاوید کے گلے سے فیصل اور اس کے والد کا ڈی این اے ملا ہے۔

اہلخانہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ حنا جاوید کے سسر نے ابتدا میں گھر میں چوری کا واقعہ بتایا تھا، جبکہ مقتولہ اور ملزمان کے موبائل فونز کی فرانزک رپورٹس تاحال زیر التوا ہیں۔ پولیس انویسٹی گیشن کمیٹی کے طریقہ کار پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ موبائل فونز سے اہم پیغامات ڈیلیٹ کیے گئے ہیں اور فرانزک رپورٹس یا فنگر پرنٹس کے حتمی نتائج آنے سے پہلے ہی تفتیش کا رخ گھریلو ملازم کی جانب موڑ دیا گیا ہے۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ گھریلو ملازم اس قتل میں ملوث ہو سکتا ہے تاہم فیصل سے متعلق ٹھوس شواہد کو جان بوجھ کر نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب اس قتل کیس کی فائل کا تفصیلی جائزہ لیں اور ملزم فیصل اصغر سے متعلق شواہد کو پس پشت ڈالنے کا فوری نوٹس لیں۔ اہلخانہ کا اصرار ہے کہ مقدمہ عدالت میں جانے سے پہلے کوئی بھی پولیس انویسٹی گیشن کمیٹی کسی کو مجرم یا بے گناہ قرار دینے کی مجاز نہیں ہے، کیونکہ کسی بھی شخص کے قصوروار یا بے گناہ ہونے کا فیصلہ صرف عدالت کا کام ہے اور خود ہی تفتیش کر کے خود ہی فیصلہ سنانا مفادات کے ٹکراؤ کے مترادف ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے حنا جاوید قتل کیس سے متعلق اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ اس کیس کی تحقیقات ابھی مکمل نہیں ہوئی ہیں اور وہ متاثرہ خاندان سے خود ذاتی طور پر ملاقات کریں گی تاکہ انصاف کی فراہمی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔