اسرائیل میں انتخابات سے قبل نیتن یاہو حکومت کیخلاف ہزاروں افراد کا احتجاج
انتخابات میں محض 3 روز باقی، اپوزیشن رہنما نے نیتن یاہو کو قیادت کے نااہل قرار دے دیا
اسرائیل میں انتخابات سے قبل نیتن یاہو حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کا منظر
اسرائیل میں عام انتخابات سے صرف 3 روز قبل ہزاروں افراد موجودہ حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے اور ملک بھر میں شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق تل ابیب میں بڑی تعداد میں شہری جمع ہوئے اور وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی پالیسیوں کے خلاف نعرے بازی کی۔ مظاہرین کا اہم مطالبہ 7 اکتوبر 2023 کے حماس کے حملے سے جڑی سکیورٹی ناکامیوں کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد تحقیقاتی کمیشن کا قیام تھا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کی جانب سے انتخابات سے عین قبل ہونے والے اس بڑے احتجاج کو نیتن یاہو کے خلاف ایک ریفرنڈم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعت یشار کے سربراہ اور اسرائیلی فوج کے سابق چیف آف اسٹاف گادی آئزن کوٹ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نیتن یاہو کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور واضح کیا کہ وہ اب اسرائیل کی قیادت کے لیے ہرگز موزوں نہیں رہے۔ انہوں نے وزیراعظم کے حالیہ معاشی منصوبوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو اسرائیل کو عالمی مالیاتی نظام سے دور کرنے کی خطرناک سمت لے جا رہے ہیں۔ آئزن کوٹ کے مطابق بین الاقوامی پابندیوں کے خدشے کے پیش نظر کرپٹو کرنسی اور بلاک چین پر مبنی متبادل ادائیگیوں کے منصوبے ملک کی معیشت، قومی سلامتی اور عالمی تعلقات کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتے ہیں۔
اپوزیشن رہنما نے اس ممکنہ مالیاتی حکمت عملی کو طنزیہ انداز میں قرار دیا اور خبردار کیا کہ عالمی بینکاری نظام سے دوری اختیار کرنے سے اسرائیلی کمپنیوں، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقعوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ یاد رہے کہ گادی آئزن کوٹ انتخابی مہم کے دوران وزیراعظم کی جنگی حکمت عملی اور طویل فوجی کارروائیوں پر مسلسل سوالات اٹھاتے رہے ہیں، جبکہ ان کا مؤقف ہے کہ اسرائیل کے موجودہ مسائل کا حل مزید جنگ کے بجائے ایک بالکل مختلف سیاسی اور سکیورٹی حکمت عملی میں مضمر ہے۔