سینیٹ میں مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضے کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور
ایوان کا 27 اکتوبر کے بھارتی قبضے کو ناجائز قرار دینے کا اعلان، اقوام متحدہ سے قراردادوں پر عملدرآمد کا مطالبہ
فائل فوٹو
اسلام آباد: سینیٹ نے مقبوضہ کشمیر پر بھارتی غاصبانہ قبضے کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔ سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزیر برائے امور کشمیر امیر مقام نے قرارداد پیش کی۔
امیر مقام کی جانب سے پیش کردہ قرارداد میں کہا گیا کہ 27 اکتوبر کو بھارت نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا۔ قرارداد میں مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے جبری قبضے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ناجائز قرار دیا گیا۔
قرارداد کے متن کے مطابق ایوان کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کرتا ہے اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ کشمیر سے متعلق اپنی قراردادوں پر عملدرآمد یقینی بنائے۔ ایوان نے حکومت پاکستان سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ کشمیری عوام کی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے۔
بعدازاں ایوان نے کشمیر کے حق میں قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔
شیری رحمان اور ناصر بٹ میں تلخ کلامی
سینیٹ اجلاس کے دوران شیری رحمان اور ناصر بٹ کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، جس کے بعد شیری رحمان ایوان سے چلی گئیں۔ ان کے بعد پیپلز پارٹی کے ارکان بھی ایوان سے باہر نکل گئے۔
جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کے لیے دعائے مغفرت
سینیٹر اعظم خان سواتی نے ایوان میں کہا کہ وہ جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کی نماز جنازہ پڑھ کر آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کے بارے میں سنا ہے کہ وہ بڑے اصول پسند انسان تھے۔
اعظم خان سواتی نے کہا کہ ملک آئین اور قانون کے مطابق چلے گا تو ترقی کرے گا۔
سینیٹ اجلاس میں مرحوم جنرل عبدالوحید کاکڑ کی روح کے ایصال ثواب کے لیے دعا بھی کروائی گئی۔ اس موقع پر اجلاس میں حکومتی بنچوں پر صرف دو ارکان موجود تھے۔
حلقہ بندیوں میں تبدیلیوں پر علی ظفر کے اعتراضات
سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ اخبار میں خبر شائع ہوئی ہے کہ الیکشن کمیشن نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے حلقوں کی حدود میں تبدیلیاں کی ہیں۔ انہوں نے خصوصاً این اے 2، 3، 40، 44 اور 45 کے حلقوں کی حدود میں تبدیلیوں کا ذکر کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ حلقوں کی حدود میں تبدیلی کرتے وقت عوام سے اعتراضات طلب نہیں کیے گئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ تبدیلیاں کسی ایک امیدوار کو کامیاب کرانے کے لیے کی جاتی ہیں.