امریکا 4 روز میں ایران پر بڑا حملہ کرسکتا ہے ، امریکی میڈیا کا دعویٰ
مجوزہ کارروائی صرف ایرانی ریڈار سسٹمز، میزائل لانچرز اور دوبارہ تعمیر کیے جا سکنے والے فوجی اہداف تک محدود نہیں ہوگی، بلکہ اس کا دائرہ اس سے کہیں زیادہ وسیع ہوسکتا ہے، سی این این
فائل فوٹو
واشنگٹن: امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے دو امریکی عہدیداروں کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی فوج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم کے بعد اگلے 4روز یعنی 96 گھنٹوں کے اندر ایران کے خلاف نئی اور بڑے پیمانے کی فوجی کارروائی شروع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
سی این این کے مطابق مجوزہ کارروائی صرف ایرانی ریڈار سسٹمز، میزائل لانچرز اور دوبارہ تعمیر کیے جا سکنے والے فوجی اہداف تک محدود نہیں ہوگی، بلکہ اس کا دائرہ اس سے کہیں زیادہ وسیع ہوسکتا ہے، ایک امریکی عہدیدار نے اسے بڑے پیمانے کی فوجی کارروائی قرار دیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) اور پینٹاگون ایران کے خلاف ممکنہ اہداف کی وسیع فہرست تیار کر رہے ہیں، جس میں ایرانی توانائی کا بنیادی ڈھانچہ، فوجی تنصیبات اور جوہری مراکز سمیت اہم مقامات شامل ہیں۔
سی این این کے مطابق بعض موجودہ اور سابق امریکی عہدیداروں کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا حکم دے سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
رپورٹ میں امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر حملے کا حکم دیا گیا تو کارروائی سال کے اختتام سے پہلے ہوسکتی ہے، تاہم امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد کارروائی کا امکان بھی زیر غور ہے۔
امریکی عہدیداروں نے تسلیم کیا کہ ایرانی افواج اب امریکی فوجی حکمت عملیوں سے پہلے کی نسبت زیادہ واقف ہیں، جس کے باعث تمام مطلوبہ اہداف کو تباہ کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے ابھی تک ایران کے خلاف کسی بڑے حملے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی صدر ٹرمپ بعض فوجی کارروائیوں کے حق میں دکھائی دیے، لیکن آخری وقت میں ان سے پیچھے ہٹ گئے۔ اس لیے ایران کے خلاف بڑے حملے کے امکان کو فی الحال حتمی فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔