گورنر راج کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کچھ پتا نہیں، پی ٹی آئی سیاسی انتقام کا نشانہ بن رہی ہے،بیرسٹر گوہر

گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو مسترد کرتے ہیں، علیمہ خان کی نظر بندی میں توسیع، کارکنوں کی گرفتاریوں اور چھاپوں پر بھی تشویش

October 26, 2026 · قومی

فائل فوٹو

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ گورنر راج کے بعد سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کچھ پتا نہیں، جبکہ اس کی آڑ میں پی ٹی آئی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے نام پر ان کی جماعت کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر راج لگایا گیا اور ایمرجنسی نافذ کی گئی، جسے وہ مسترد کرتے ہیں۔ دہشت گردی کا خاتمہ ہونا چاہیے، اس معاملے پر کوئی دو رائے نہیں ہیں۔

بیرسٹر گوہر نے بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی نظر بندی میں 30 روز کی توسیع کی بھی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ علیمہ خانم غیر سیاسی ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کی نظر بندی میں 30 روز کی توسیع کر دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے 12 ارکان قومی اسمبلی کو حراست میں رکھا گیا ہے، جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ ان کے مطابق پارٹی کے سپورٹرز کو گرفتار کیا جا رہا ہے، چھاپے مارے جا رہے ہیں اور خیبرپختونخوا میں پارٹی کے جھنڈے بھی اتارے جا رہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے سہیل آفریدی کو ذمہ داری سونپی تھی اور ان کے خیال میں سہیل آفریدی نے بہترین کارکردگی دکھائی ہے۔