قومی اسمبلی میں یومِ سیاہ کشمیر پر بھارت کے خلاف مذمتی قرارداد منظور
قرارداد وفاقی وزیر امورِ کشمیر امیر مقام اور چیئرمین کشمیر کمیٹی قاسم نون نے پیش کی۔
قومی اسمبلی میں یومِ سیاہ کشمیر پر بھارت کے خلاف مذمتی قرارداد منظور
اسلام آباد: قومی اسمبلی نے 27 اکتوبر یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی اور بھارت کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کر لی۔ قرارداد وفاقی وزیر امورِ کشمیر امیر مقام اور چیئرمین کشمیر کمیٹی قاسم نون نے پیش کی۔
قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ کی صدارت میں ہوا، جس میں کراچی میں بجلی کی طویل بندش کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔
ایم کیو ایم پاکستان کے رکن قومی اسمبلی سید امین الحق نے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں بدترین لوڈشیڈنگ جاری ہے اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کے الیکٹرک اووربلنگ کے ذریعے بھاری رقم وصول کر رہی ہے، لیکن اس کے باوجود شہر میں بجلی کی فراہمی کی صورتِ حال بہتر نہیں ہو رہی۔ انہوں نے رات کے اوقات میں بھی لوڈشیڈنگ پر سوالات اٹھائے۔
پارلیمانی سیکرٹری عامر طلال خان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات مرمتی کام کے باعث بجلی کی بندش میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیپرا کے قواعد کے مطابق رات کے اوقات میں لوڈشیڈنگ نہیں ہونی چاہیے۔ اگر اس حوالے سے کوئی خلاف ورزی ہوئی ہے تو معاملے کا جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ صنعتی فیڈرز پر لوڈشیڈنگ نہیں کی جا رہی۔
ڈپٹی اسپیکر نے کراچی میں لوڈشیڈنگ کا معاملہ توانائی کی قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔
اجلاس کے دوران وفاقی وزیر امورِ کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام نے کہا کہ بھارت گزشتہ تقریباً 80 برس سے کشمیری عوام پر مظالم ڈھا رہا ہے۔ ان کے مطابق ہزاروں کشمیری شہید کیے جا چکے ہیں، جبکہ تقریباً 7 ہزار کشمیریوں کو جیلوں میں شہید کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹے۔
امیر مقام کا کہنا تھا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اسلام آباد میں کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے منعقدہ تقریب میں سول سوسائٹی اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کی رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار نے انسدادِ زنا بالجبر تفتیش اور سماعتِ مقدمہ بل 2024 منظوری کے لیے ایوان میں پیش کیا، تاہم وزیر قانون نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل پولیس بیورو میں اس حوالے سے نظام پہلے سے موجود ہے اور ایسے مقدمات کی نگرانی کے لیے ٹریک اینڈ ٹریس نظام بھی کام کر رہا ہے۔ بعد ازاں بل کو مزید غور و خوض کے لیے قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔