بھارتی وزیراعلیٰ پاکستان آئیں، کھلے دل سے استقبال کریں گے، رمیش سنگھ اروڑہ

پنجاب اسمبلی میں سکھ یاتریوں کی آمد، کرتارپور راہداری اور مسئلہ کشمیر پر اہم اظہارِ خیال

October 27, 2026 · قومی

بھارتی وزیراعلیٰ پاکستان آئیں، کھلے دل سے استقبال کریں گے، رمیش سنگھ اروڑہ

لاہور: پنجاب اسمبلی میں سکھ یاتریوں اور پاک بھارت تعلقات سے متعلق اظہارِ خیال کرتے ہوئے رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا ہے کہ بھارتی وزیراعلیٰ بھگونت سنگھ مان نے کرتارپور کے راستے پاکستان آنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعلیٰ پاکستان آئیں، ان کا کھلے دل سے استقبال کیا جائے گا۔

رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ دنیا بھر کے سکھ پاکستان آنا چاہتے ہیں اور سکھ برادری پاکستان کو اپنا پہلا ملک سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارتی وزیراعلیٰ بھگونت سنگھ مان کو فرانس اور جاپان جانے کی اجازت نہیں دی جاتی تو انہیں پاکستان کیسے آنے دیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور بھارت کے معاہدے کے تحت پانچ ہزار سکھ یاتریوں کو کرتارپور آنے کی اجازت تھی، تاہم بھارتی حکومت نے یہ تعداد کم کرکے پانچ سو تک محدود کردی ہے۔

رمیش سنگھ اروڑہ نے سوال کیا کہ سکھ برادری کو کرتارپور کوریڈور کا تحفہ دینے کے باوجود بھارتی حکومت یاتریوں کو پاکستان آنے سے کیوں روک رہی ہے۔ انہوں نے بھارتی وزیراعلیٰ بھگونت سنگھ مان اور اسپیکر کو پاکستان آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ان کا کھلے دل سے استقبال کیا جائے گا۔

انہوں نے کشمیری عوام کو یقین دلایا کہ پاکستان حق خودارادیت کی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑا ہے۔

پنجاب اسمبلی میں یومِ سیاہ کشمیر کی قرارداد منظور

پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں کشمیریوں کے یومِ سیاہ کے حوالے سے ان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کی قرارداد بھی منظور کی گئی۔

قرارداد میں کہا گیا کہ 27 اکتوبر کشمیریوں کے لیے سیاہ دن ہے، کیونکہ اسی روز بھارت نے کشمیر پر ناجائز قبضہ کیا تھا۔

قرارداد میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں کی اطلاعات کو انتہائی تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ طاقت اور جبر کے ذریعے کسی قوم کی آواز دبائی نہیں جاسکتی۔

قرارداد کے مطابق پاکستانی عوام کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی سے گہری وابستگی رکھتے ہیں اور ان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

قرارداد میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں کا نوٹس لے۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل نکالنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔