امریکہ کے ایران جنگ اخراجات47 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
مجموعی رقم جولائی میں محکمہ دفاع کے تخمینے سے بھی 25 فیصد زیادہ ہے
امریکہ کے ایران جنگ اخراجات47 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
امریکہ کے ایران کے خلاف جنگی اخراجات 47 ارب ڈالر سے بڑھنے کا دعویٰ سامنے آیا ہے، جبکہ پاکستان اور چین نے خبردار کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو خطے کے ساتھ عالمی معیشت کو بھی سنگین نقصان پہنچ سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پینٹاگون نے ایران کے خلاف جنگ سے متعلق اخراجات کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں، جن کے مطابق مجموعی رقم جولائی میں محکمہ دفاع کے تخمینے سے بھی 25 فیصد زیادہ ہے۔ تاہم ان اخراجات میں ایرانی حملوں کے نتیجے میں امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ شامل نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں چین نے امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ جنگ شروع ہونے کے ممکنہ نتائج پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ چینی مندوب کے مطابق نئی جنگ خطے میں بڑے پیمانے پر تباہی کا باعث بن سکتی ہے اور عالمی معیشت کو درپیش مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
چینی نمائندے نے ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ایران کے جوہری معاملے پر دوہرے معیار سے گریز کیا جائے اور تنازع کے حل کے لیے متوازن حکمت عملی اپنائی جائے۔
سلامتی کونسل میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب عثمان جدون نے بھی ایران کے جوہری معاملے کے سفارتی حل پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
عثمان جدون نے تمام فریقوں سے اپیل کی کہ وہ کشیدگی میں اضافہ کرنے والے بیانات اور اقدامات سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے جوہری مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے اور عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کو اپنے تکنیکی مینڈیٹ کے تحت آزادانہ اور بلا رکاوٹ کام کرنے کا موقع دیا جائے۔
ادھر وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل بھی ایران کے خلاف ممکنہ نئے حملوں کی تیاری کر رہا ہے۔ تاہم خطے میں فوجی کارروائی کے خدشات کے باوجود سفارتی رابطے اور مذاکرات کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
موجودہ صورتحال میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں ممکنہ اضافے نے خطے کے امن، عالمی معیشت اور جوہری تنازع کے مستقبل کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں۔