پی ٹی آئی کے پارلیمانی اجلاس میں اختلافات سامنے آگئے

اجلاس میں پارٹی کی منصوبہ بندی، سیاسی رابطوں اور خیبرپختونخوا میں حکومتی صورتحال پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

October 28, 2026 · قومی
پی ٹی آئی کے پارلیمانی اجلاس میں اختلافات سامنے آگئے

پی ٹی آئی کے پارلیمانی اجلاس میں اختلافات سامنے آگئے

پاکستان تحریک انصاف کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی اندرونی تفصیلات سامنے آگئی ہیں، جہاں لانگ مارچ اور احتجاجی حکمتِ عملی پر ارکان نے قیادت سے سخت سوالات کیے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں پارٹی کی منصوبہ بندی، سیاسی رابطوں اور خیبرپختونخوا میں حکومتی صورتحال پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض ارکان نے شکوہ کیا کہ احتجاج کے لیے پلان اے، بی، سی اور ڈی کی باتیں تو کی گئیں، لیکن عملی حکمتِ عملی واضح نہیں ہو سکی۔ ارکان نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ خیبرپختونخوا میں حکومت کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورتحال پر پارٹی کی جانب سے مؤثر ردعمل کیوں سامنے نہیں آیا۔ سیاسی رابطوں اور مذاکرات کے معاملے پر بھی تحفظات ظاہر کیے گئے۔

اجلاس کے دوران تلخ کلامی کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ ذرائع کے مطابق علی امین گنڈاپور کے بھائی فیصل امین خان اجلاس سے ناراضی کے عالم میں باہر نکل گئے، جبکہ رکن اسمبلی خواجہ شیراز نے بھی اجلاس چھوڑ دیا۔ دیگر ارکان کی جانب سے انہیں روکنے کی کوشش کی گئی، تاہم دونوں کے واک آؤٹ کی وجوہات کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

دوسری جانب اجلاس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان تک رسائی اور ان کے علاج کی سہولیات یقینی بنانے کے لیے چھ رکنی اسٹیئرنگ کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور سینیٹر راجا ناصر عباس کو کمیٹی کی سربراہی سونپی گئی۔

سینیٹر مشال یوسفزئی کے مطابق پارٹی کی اولین ترجیح بانی پی ٹی آئی تک رسائی اور ان کے علاج کا بندوبست کرنا ہے۔

پی ٹی آئی رہنما عاطف خان نے بھی اجلاس میں ارکان کے تحفظات اور شکوے شکایات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس بات پر گفتگو ہوئی کہ غلطیاں کہاں ہوئیں اور معاملات آگے کیوں نہیں بڑھ سکے۔

اجلاس کے بعد بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی اپنا پارلیمانی کردار ادا کرتی رہے گی۔ ان کے مطابق پارٹی نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو مسترد کیا ہے اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی سے متعلق اقدامات واپس لیے جائیں۔

سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے بھی اجلاس میں مشترکہ قرارداد پیش کی۔ اجلاس میں سامنے آنے والے تحفظات اور اختلافات کے باوجود پارٹی قیادت کی جانب سے پارلیمانی کردار جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔