آپ فرعون سے طاقتور نہیں، وہ بھی ہار گیا تھا،ملک ایسے نہیں چل سکتا، محمود اچکزئی

حکومت کو چاہیے کہ پارلیمنٹ کو طاقت کا اصل مرکز بنائے اور اپوزیشن کے ساتھ بیٹھ کر مسائل کا حل نکالے

October 29, 2026 · قومی
آپ فرعون سے طاقتور نہیں، وہ بھی ہار گیا تھا،ملک ایسے نہیں چل سکتا، محمود اچکزئی

آپ فرعون سے طاقتور نہیں، وہ بھی ہار گیا تھا،ملک ایسے نہیں چل سکتا، محمود اچکزئی

اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو موجودہ انداز میں نہیں چلایا جا سکتا، حکومت کو چاہیے کہ پارلیمنٹ کو طاقت کا اصل مرکز بنائے اور اپوزیشن کے ساتھ بیٹھ کر مسائل کا حل نکالے۔

پارلیمنٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے محمود اچکزئی نے کہا کہ جب حکومت سے بات کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو جواب میں گالیاں دی جاتی ہیں۔ انہوں نے حنیف عباسی کے دورۂ حرمین شریفین کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ووٹوں کے لیے کتنی رقم دی گئی، جبکہ حکومت میں مبینہ کرپشن کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔

اپوزیشن لیڈر نے خواجہ آصف اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایوان اور پارلیمنٹ کو مضبوط کیا جائے، ایسا کرنے پر اپوزیشن بھی تعاون کرے گی۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا بنگلہ دیش کے بعد پاکستان کو بھی توڑنے کا ارادہ ہے؟ ملک کو کمزور کرنے کے بجائے اسے مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

محمود اچکزئی کا کہنا تھا کہ اب تک پاکستانی قوم کو متحد کرنے میں کامیابی نہیں ملی۔ انہوں نے معاشی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مزدور کی آمدن محدود ہے، تقریباً چھ کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔ ان کے مطابق جب صاحبِ استطاعت شخص بھی 40 ہزار روپے میں گاڑی کی ٹینکی نہیں بھرا سکتا اور غریب کے لیے 20 ہزار روپے کا بندوبست کرنا مشکل ہو تو ایسے حالات میں ملک کیسے چل سکتا ہے؟

انہوں نے افغانستان کے ساتھ ماضی کے تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا جب افغانستان پاکستان کا قریبی دوست تھا اور ذوالفقار علی بھٹو نے وہاں کابینہ کا اجلاس بھی کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مولانا افغانستان جانے کے لیے تیار ہوئے تو وہاں ان کے خاندانی تعلقات بھی ہیں۔

افغان طالبان کے حوالے سے محمود اچکزئی نے کہا کہ ماضی میں انہیں قومی اثاثہ قرار دیا گیا تھا، اس لیے یہ معاملہ فوری طور پر ختم نہیں ہو سکتا۔ محض شور شرابے اور گالم گلوچ سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔

انہوں نے ایران کی صورتحال پر بھی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اپوزیشن کو اعتماد میں لیا جائے۔ محمود اچکزئی نے کہا کہ اگر حکومت مشاورت کرے تو وہ اس کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہیں۔ ان کے بقول اب کسی نئے چہرے کی ضرورت نہیں، سب کو مل کر آگے بڑھنا چاہیے اور ماضی کی تلخیوں کو بھلا دینا چاہیے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر محمود اچکزئی نے کہا کہ حکمران فرعون سے زیادہ طاقتور نہیں، وہ بھی شکست سے دوچار ہوا تھا۔ نہ حکومت مکمل طور پر درست ہے اور نہ اپوزیشن اتنی بری ہے؛ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام فریق مل بیٹھ کر ملک کے مسائل حل کریں۔