وزیرِ اعظم نے لاہور اور کراچی ایئرپورٹس کی ماسٹر پلانز کے تحت توسیع کی منظوری دے دی

شہباز شریف کی ہدایت، توسیعی منصوبے مقررہ مدت میں مکمل، معیار پر سمجھوتہ نہیں ہوگا

October 29, 2026 · قومی

وزیرِ اعظم نے لاہور اور کراچی ایئرپورٹس کی ماسٹر پلانز کے تحت توسیع کی منظوری دے دی

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے لاہور اور کراچی ایئرپورٹس کی ماسٹر پلانز کے تحت توسیع کی منظوری دے دی اور ہوائی اڈوں پر بین الاقوامی معیار کے مطابق سہولیات بہتر بنانے کی ہدایت کی ہے۔

وزیرِ اعظم نے توسیعی منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے، تعمیراتی معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے اور منصوبوں کو بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے توسیعی منصوبوں اور مسافروں کی سفری سہولیات بہتر بنانے کے لیے اصلاحات کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔

وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ایئرپورٹس پر سفری سہولیات بہتر بنانے کے لیے بین الاقوامی شہرت یافتہ اداروں کی خدمات حاصل کی جائیں اور مسافروں کی سہولت کے لیے تعینات افسران و عملے کو اعلیٰ سروس ڈلیوری کی باقاعدہ تربیت فراہم کی جائے۔

انہوں نے ہوائی اڈوں پر مختلف اداروں کے درمیان روابط مزید بہتر بنانے اور مسافروں کی سہولت کو ہر حال میں مقدم رکھنے کی ہدایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہوائی اڈوں پر مسافروں کے لیے بہترین کیٹررز کی خدمات حاصل کی جائیں اور کھانے پینے کی اشیا کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملک کے بڑے شہروں میں ہوائی اڈوں کی توسیع اور مسافروں کو بہترین سفری سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس کو بڑے ایئرپورٹس پر سفری سہولیات کے معیار کا جائزہ لینے کے لیے ایک بین الاقوامی فرم کے ذریعے حال ہی میں مکمل کیے گئے سروے پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس کو کراچی اور لاہور ایئرپورٹس کے توسیعی منصوبوں، ملک بھر میں سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے مختلف ہوائی اڈوں کی اپ گریڈیشن اور جاری ترقیاتی کاموں کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی کے رن وے کی توسیع مکمل ہو چکی ہے۔

لاہور اور کراچی ایئرپورٹس کے ماسٹر پلانز، ان کے تحت توسیع کی منصوبہ بندی اور تعمیر کی مقررہ مدت کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیرِ اعظم نے تعمیراتی کام بین الاقوامی معیار کے مطابق مکمل کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران سول ایوی ایشن اتھارٹی نے مقامی پروازوں کی بحالی کے لیے 14 ایئرپورٹس فعال کیے ہیں۔ ایف آئی اے نے بھی مسافروں کی سہولت کے پیشِ نظر عملے اور کاؤنٹرز کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ بڑے ایئرپورٹس پر بارڈر مینجمنٹ کے خودکار نظام (ای گیٹس) کی تنصیب پر تیزی سے کام جاری ہے۔ اس کے علاوہ کراچی کو ایئر کارگو حب بنانے کے لیے ایئر کارگو ولیج کی تعمیر پر بھی کام جاری ہے۔

اسلام آباد ایئرپورٹ پر مسافروں کی سہولت کے لیے میٹ اینڈ گریٹ سروس شروع کی گئی ہے، جبکہ ایف آئی اے نے ملک کے بڑے ایئرپورٹس پر مسافروں کی بروقت رہنمائی کے لیے پری ڈیپارچر ڈیسک بھی قائم کیے ہیں۔

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ حیدرآباد میں ہوا بازی کے موجودہ ادارے کو بہتر بنا کر بین الاقوامی معیار کی ایوی ایشن یونیورسٹی میں تبدیل کیا جا رہا ہے، جس پر فروری 2028 تک کام شروع کر دیا جائے گا۔

اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء خواجہ محمد آصف، ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ اور عطاء اللہ تارڑ، مشیر وزیرِ اعظم محمد علی، ارکانِ قومی اسمبلی راجہ اسامہ سرور اور علی زاہد، وزیرِ اعظم کے کوآرڈینیٹر سردار یاسر الیاس اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔