دو بیٹوں کے قتل کے مقدمے میں ماں کی عمر قید کی سزا 10 سال قیدِ بامشقت میں تبدیل
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ، والدین کو قصاص سے استثنا مل سکتا ہے، قتل کے جرم سے بریت نہیں
دو بیٹوں کے قتل کے مقدمے میں ماں کی عمر قید کی سزا 10 سال قیدِ بامشقت میں تبدیل
لاہور ہائیکورٹ نے دو بیٹوں کے قتل کے مقدمے میں ملزمہ شگفتہ پروین کی عمر قید کی سزا کم کرکے دونوں قتل کے جرم میں 10، 10 سال قیدِ بامشقت میں تبدیل کردی۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ والدین کو اپنی اولاد کے قتل پر قصاص سے استثنا تو مل سکتا ہے، تاہم انہیں جرم سے بریت حاصل نہیں ہوتی۔
نجی ٹی وی کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد امجد رفیق نے شگفتہ پروین کی اپیل پر 20 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں جسٹس محمد امجد رفیق نے کہا کہ والدین کو اپنی اولاد کے قتل پر قصاص سے استثنا حاصل ہوسکتا ہے، لیکن قصاص لاگو نہ ہونے کی صورت میں بھی قتل کے جرم پر تعزیری سزا دی جاسکتی ہے۔ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 302 (سی) کے تحت ایسے مقدمات میں 25 سال تک قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔
مقدمے کے مطابق شگفتہ پروین کے تین سالہ بیٹے عبدالہادی اور نو ماہ کے بیٹے عبدالرحیم کی لاشیں 9 نومبر 2022 کو حافظ آباد میں ان کے گھر سے ملی تھیں۔ ٹرائل کورٹ نے 28 جون 2024 کو دونوں بچوں کے قتل کے جرم میں ملزمہ کو دو مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
ٹرائل کورٹ نے دونوں بچوں کے ورثا کو دو، دو لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے اور خودکشی کی کوشش کے جرم میں چھ ماہ قید کی سزا بھی سنائی تھی۔
لاہور ہائیکورٹ نے شواہد کا جائزہ لینے کے بعد دونوں بچوں کے قتل کا جرم ثابت قرار دیا، تاہم قصاص کے بجائے تعزیری سزا مقرر کردی۔ عدالت نے قرار دیا کہ شوہر کے ساتھ تنازع اور ذہنی دباؤ بذاتِ خود قانونی طور پر ذہنی عدم اہلیت ثابت نہیں کرتے۔
عدالت نے ملزمہ کی اپیل جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے دونوں قتل کے مقدمات میں عمر قید کی سزا تبدیل کرکے 10، 10 سال قیدِ بامشقت کردی۔
فیصلے کے مطابق بچوں کے ورثا کو معاوضے کی ادائیگی اور خودکشی کی کوشش کے جرم میں چھ ماہ قید کی سزا برقرار رکھی گئی ہے۔ عدالت نے تمام سزائیں ایک ساتھ چلانے اور ملزمہ کو ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 382-B کا فائدہ دینے کا حکم بھی برقرار رکھا۔