غذائی بحران کا خطرہ، عالمی بینک نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
مشرق وسطیٰ کشیدگی سے خوراک اور توانائی مہنگی ہونے کا خدشہ، پاکستان میں کپاس کی پیداوار 6 فیصد گھٹنے کی پیش گوئی
فائل فوٹو: گوگل
عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث توانائی کی فراہمی متاثر ہونے اور خوراک سمیت مختلف اجناس کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے، جس سے دنیا بھر میں مہنگائی کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق رواں سال عالمی اجناس کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 23 فیصد اضافے کا امکان ہے، جبکہ توانائی کی قیمتیں 32 فیصد تک بڑھ سکتی ہیں۔ رپورٹ میں برینٹ خام تیل کی اوسط قیمت 92 ڈالر فی بیرل رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں میں 2026 کے دوران 10 فیصد سے زائد اضافے کا امکان ہے، جبکہ 2027 میں بھی مزید 7 فیصد سے زیادہ اضافہ متوقع ہے۔ روس یوکرین جنگ کے باعث مشرق وسطیٰ کے راستے اناج کی ترسیل میں رکاوٹیں بھی قیمتوں میں اضافے کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔
عالمی بینک نے پاکستان میں مالی سال 2026-27 کے دوران کپاس کی پیداوار میں 6 فیصد کمی کی پیش گوئی کی ہے، جبکہ عالمی سطح پر کپاس کی پیداوار بھی 3 فیصد کم ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
چین میں کپاس کی پیداوار 6 فیصد اور امریکا میں 3 فیصد کم ہونے کی توقع ہے، جبکہ برازیل اور بھارت میں ایک، ایک فیصد اضافے کا امکان ہے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کی شدت بڑھنے، تیل کی رسد میں مزید رکاوٹوں اور شدید موسمی اثرات کے باعث خوراک کی قیمتیں توقعات سے بھی زیادہ بڑھ سکتی ہیں، جس سے عالمی غذائی تحفظ اور معاشی ترقی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
عالمی توانائی کی قیمتوں میں 32 فیصد اضافہ
عالمی بینک کے مطابق 2026 میں توانائی کی قیمتوں میں 32 فیصد اضافہ متوقع ہے، جو 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد بلند ترین سطح ہوگی۔
مشرق وسطیٰ میں جنگ کے دوران عالمی تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ہوئی ہے، جبکہ 2026 میں عالمی سطح پر تیل کی رسد میں 5.2 فیصد کمی کا امکان ہے۔ 2020 کی عالمی کساد بازاری کے علاوہ یہ چار دہائیوں میں تیل کی رسد میں سب سے بڑی سالانہ کمی ہوسکتی ہے۔
برینٹ خام تیل کی اوسط قیمت 2026 میں 92 ڈالر فی بیرل رہنے کی توقع ہے۔ تاہم عالمی سطح پر تیل کی طلب میں 2.5 فیصد کمی کا امکان نہ ہوتا تو قیمتیں مزید بلند ہوسکتی تھیں۔
عالمی بینک کے نائب چیف اکانومسٹ ایہان کوسے کے مطابق عالمی اجناس کی منڈیوں کو بیک وقت کئی بڑے دھچکوں کا سامنا ہے۔ توانائی کے بڑھتے اخراجات اور تجارتی رکاوٹیں مختلف اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں، جس سے مہنگائی، غذائی عدم تحفظ اور معاشی ترقی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایسی صورتحال میں 2010 کی دہائی کے اوائل جیسا غذائی بحران پیدا ہوسکتا ہے، جب 4 کروڑ سے زائد اضافی افراد انتہائی غربت کا شکار ہوگئے تھے۔
کھاد، دھاتیں اور سونے کی قیمتیں بھی بڑھنے کا امکان
عالمی بینک نے پیش گوئی کی ہے کہ یوریا کی قیمتوں میں اضافے کے باعث 2026 میں کھاد کی قیمتیں 14 فیصد بڑھ سکتی ہیں، تاہم 2027 میں ان کے دوبارہ 2025 کی سطح پر آنے کا امکان ہے۔
رپورٹ کے مطابق دھاتوں کی قیمتوں میں 2026 کے دوران 25 فیصد اضافے کی توقع ہے، جبکہ ایلومینیم، تانبے اور ٹن کی قیمتیں نئی بلند ترین سطحوں تک پہنچ سکتی ہیں۔ اس کی وجوہات میں رسد کی رکاوٹیں اور قابل تجدید توانائی، الیکٹرک گاڑیوں اور ڈیٹا سینٹرز میں سرمایہ کاری کے باعث بڑھتی ہوئی طلب شامل ہیں۔
اسی طرح جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور پالیسیوں سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث محفوظ سرمایہ کاری کے ذرائع کی طلب بڑھنے سے قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں 2026 کے دوران 40 فیصد اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ 2027 میں ان میں کچھ کمی متوقع ہے۔
عالمی بینک کی متاثرہ ممالک کے لیے امداد
عالمی بینک کے مطابق مشرق وسطیٰ کی جنگ سے منفی طور پر متاثر ہونے والے 25 ممالک کو اب تک 8 ارب 70 کروڑ ڈالر کے کم شرح سود والے قرضے اور دیگر امداد فراہم کی جاچکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 10 ممالک نے بحران سے متعلق اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنے موجودہ پروگراموں میں تبدیلیاں کیں، جبکہ 19 ممالک نے نئے وسائل سے استفادہ کیا۔ بعض ممالک نے دونوں طریقے اختیار کیے۔
عالمی بینک نے کہا ہے کہ اس کی توجہ دنیا کے غریب ترین افراد کو تحفظ فراہم کرنے اور بھاری قرضوں کے بوجھ تلے دبے کم آمدنی والے ممالک کی مدد کرنے پر مرکوز ہے۔